آبنائے ہرمز: ایران کا وہ ہتھیار جس نے امریکہ کو دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا
ایران کا معاشی وار، آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی طاقتوں کو چیلنج
تہران 22 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نئی حکمت عملی سامنے آئی ہے جہاں ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بجائے آبنائے ہرمز کو بطور سب سے طاقتور ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حکمت عملی عالمی سطح پر زیادہ مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کا ایک نہایت اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے تقریباً دنیا کے پانچویں حصے کے برابر تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ایران کی جانب سے اس راستے کو بند کرنے یا متاثر کرنے کی دھمکی عالمی معیشت کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتی ہے اور تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے براہ راست فوجی تصادم کے بجائے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی ہے جس میں چھوٹی کشتیوں، میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ اس طریقہ کار کو جنگی تھکاوٹ کی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے جس میں دشمن کو آہستہ آہستہ کمزور کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے بھی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے خطے میں بحری اور فضائی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے تحت آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں بحری نگرانی بڑھا دی گئی ہے تاکہ تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔
امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کے لیے آنے اور جانے والے جہازوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جس کا مقصد ایران کی معیشت پر دباؤ ڈالنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب تک متعدد جہازوں کو روکا جا چکا ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام ساٹھ فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے، جو مزید افزودگی کے بعد کئی ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ تاہم حالیہ حملوں کے بعد ایران نے اپنے ذخائر کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنوں کو بھی معطل کر دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں معمول کی نگرانی ممکن نہیں رہی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ استعمال کرنا ایک غیر روایتی مگر انتہائی مؤثر حکمت عملی ہے، جس کے ذریعے وہ عالمی طاقتوں کو براہ راست جنگ کے بغیر ہی متاثر کر سکتا ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جدید جنگوں میں صرف عسکری طاقت ہی نہیں بلکہ معاشی اور جغرافیائی کنٹرول بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔



