
بغداد ، ۱۱؍اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)عراق میں حکومت مخالف کارکنوں کے وسیع پیمانے پر انتخابی بائیکاٹ کے درمیان ہونے والے الیکشن نے نوجوانوں میں کوئی جوش پیدا نہیں کیا۔ انتخابی نتائج پیر کی شام تک آنے کی توقع ہے۔عراق میں 10 اکتوبر اتوار کے روز پارلیمانی انتخابات کرائے گئے جس میں حیرت انگیز طور پر بہت کم شہریوں نے حصہ لیا۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
سن 2019 میں ملک میں نوجوانوں کی قیادت میں ایک عوامی تحریک شروع ہوئی تھی جس نے ملک میں ایک طوفان برپا کیا اور اسی سے حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس کے بعد یہ پہلے پارلیمانی انتخابات تھے۔لیکن حکومت مخالف کارکنان کے وسیع انتخابی بائیکاٹ کے درمیان ہونے والے اس الیکشن نے عراق کی نوجوان آبادی میں زیادہ جوش و خروش نہیں پیدا کیا۔
عراق کے انتخابی کمیشن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ صرف 42 فیصد رائے دہندگان نے ہی اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ انتخابات کے مکمل نتائج اگلے 24 گھنٹوں کے اندر جاری ہونے کی توقع ہے۔اتوار کی شام کو مقامی وقت کے مطابق جب چھ بجے ووٹنگ ختم ہوئی تو فوری طور پر وزیر اعظم مصطفی الخادمی نے ٹویٹر پر انتخابات کرانے میں کامیابی کا دعوی کر دیا۔
انہوں نے لکھا،ہم نے اپنے وعدے کے مطابق منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے میں اپنا فرض پورا کیا اور اس میں کامیابی بھی حاصل کی ہے۔لیکن بہت سے افراد نے ان کے اس تبصرے پر شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ انتخابات میں لوگوں کا اتنی کم تعداد میں حصہ لینا اس بات کا مظہر ہے کہ لوگوں کا سیاسی رہنماؤں سے اعتماد اٹھ چکا ہے اور موجودہ حکومت کے منصفانہ انتخابات کے انعقاد پر رائے دہندگان کی عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
عراق کی مجموعی چار کروڑ کی آبادی میں سے تقریباً ڈھائی کروڑ شہری ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔لیکن اس میں سے صرف 42 فیصد نے ووٹ ڈالا، جو ایک ریکارڈ کم ترین ٹرن آؤٹ ہے۔ یہ شرح گزشتہ 2018 کے انتخابات سے بھی کم ہے، جس میں 44.5 فیصد رائے دہندگان نے اپنی رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ بہت کم لوگوں کو ہی انتخابی نتائج سے کسی خاص تبدیلی کی توقع ہے۔



