بغداد، 3نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)عراق کی سپریم کورٹ نے جنوبی شہر بصرہ میں حکومت مخالف مظاہروں کی کوریج کرنے والے دو صحافیوں کے قتل کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ فیصلہ پیر کو سنایا گیا ہے۔
الدجلہ ٹیلی ویژن کے 37 سالہ نمائندے احمد عبد الصمد (Ahmad Abd al-Samad) اور ان کا 26 سالہ کیمرہ مین صفا غالی (Safaa Ghali) جنوری 2020 میں اپنے آبائی شہر بصرہ میں گاڑی چلا رہے تھے کہ ایک اور گاڑی آگے بڑھی اور بندوق برداروں نے کار پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
بصرہ کی عدالت نے ایک بیان میں کہا کہ سزا یافتہ شخص جس کی شناخت صرف’ایچ کے‘ کے نام سے ہوئی ہے، نے تمام جرائم کا اعتراف کر لیا ہے۔عدالت نے کہا کہ اس نے دو صحافیوں کو ’سیکورٹی اور استحکام کو غیر مستحکم کرنے اور لوگوں کو دہشت گردی کے مقاصد کے لیے ڈرانے کے مقصد سے قتل کیا تھا۔
اے ایف پی کے مطابق عدالت نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ وہ کس گروپ سے تعلق رکھتا تھا۔ایک سکیورٹی اہلکار نے اس وقت بتایا کہ اس ملزم کو 2021 کے اوائل میں قاتلوں کے ذمہ دار 16 افراد کے نیٹ ورک کے چار دیگر اراکین کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔
اس کی پھانسی کی اجازت دینے والے فرمان پر ابھی عراقی صدر برہم صالح کے دستخط ہونا ضروری ہیں اور ان کے پاس اپیل کرنے کے لیے 30 دن ہیں۔اکتوبر 2019 میں بغداد اور عراق کے شیعہ اکثریتی جنوبی علاقوں میں مظاہرے پھوٹ پڑے اور حکومتی بدعنوانی اور ملازمتوں کی کمی کے خلاف احتجاج ہوئے۔
واضح رہے کہ عراق بھر میں مظاہروں سے متعلق تشدد میں لگ بھگ 600 افراد ہلاک اور دسیوں ہزار زخمی ہوئے۔عراقی انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومت پر قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکام ہونے کا الزام لگاتی ہیں،لیکن وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے بارہا بندوق برداروں کا سراغ لگانے کا وعدہ کیا ہے۔



