اسلام آباد نے گیس پائپ لائن منصوبہ میں ایران سے شرائط میں استثنیٰ مانگ لیا
پاکستان کو اپنی سرزمین پر پائپ لائن تعمیر کرنی تھی۔
کراچی، 8اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) پاکستان نے اربوں ڈالر مالیت کے ایران- پاکستان (آئی پی) گیس پائپ لائن منصوبے میں اپنی ٹھیکے کی ذمہ داریوں کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیرِ مملکت برائے پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان میں امریکی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اس منصوبے پر عمل درآمد کی راہ میں یہ سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ایران سے پاکستان تک قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے 2,775 کلومیٹر طویل پائپ لائن کی تعمیر پر گفتگو 1995 میں شروع ہوئی تھی لیکن پاکستان میں فنڈز کی کمی اور ایران کی جوہری سرگرمیوں پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کی بنا پر یہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان 2009 میں طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت گیس پائپ لائن منصوبہ دسمبر 2014 تک مکمل ہونا تھا اور اس سے پاکستان کو یومیہ 21.5 ملین کیوبک میٹر (760,000 ملین کیوبک فٹ) گیس فراہم کی جانا تھی۔
اسے مخصوص طریقۂ کار کے تحت تعمیر کیا جانا تھا جس کا مطلب ہے کہ ایران کو اپنے علاقے میں اور پاکستان کو اپنی سرزمین پر پائپ لائن تعمیر کرنی تھی۔قومی اسمبلی میں تحریری شہادت دیتے ہوئے ملک نے کہا کہ ایران پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے پائپ لائن پر کام تعطل کا شکار تھا اور پابندیاں ہٹنے کے بعد منصوبے کی سرگرمیاں شروع ہو جائیں گی اور اس سے پاکستان کے سرکاری اداروں کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔ملک نے لکھاکہ پاکستان نے گیس خرید و فروخت کے معاہدے کے تحت ایران کو فورس میجر اور ایکوزنگ ایونٹ (جی ایس پی اے) کا نوٹس جاری کیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کی ذمہ داریاں معطل ہو جاتی ہیں۔ ملک نے مزید کہا کہ ایران اس نوٹس کی صداقت پر اختلاف کرتا ہے۔
معاہدوں میں شامل فورس میجر ایک ایسی شق ہے جو ایسی غیر متوقع اور ناگزیر آفات کی ذمہ داری کو ختم کرتی ہے جو واقعات کے متوقع عمل میں خلل ڈالتی ہے اور شرکاء کو ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے روکتی ہے۔گزشتہ ہفتے پاکستان کے دورے کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے اسلام آباد پر زور دیا کہ وہ انتہائی تاخیر کا شکار اس منصوبے کا اپنی طرف کا حصہ مکمل کرے۔جرمانے کی شق کے تحت اپنی سرزمین پر پائپ لائن کی تعمیر مکمل کرنے میں ناکامی پر پاکستان یکم جنوری 2015 سے ایران کو 10 لاکھ ڈالر یومیہ ادا کرنے کا پابند ہے۔ اگر ایران کیس کو ثالثی عدالت میں لے جاتا ہے تو پاکستان کو اربوں ڈالر جرمانے کے طور پر ادا کرنے پڑیں گے۔



