اسرائیل نے شفا اسپتال سے کئی نعشیں غائب کردی ہیں: حماس
کئی روز محاصرہ کے بعد 41 نومولودوں کو شفا اسپتال سے نکال لیا گیا
غزہ، 20نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) حماس تحریک کے رہنما اسامہ حمدان نے کہا کہ القسام بریگیڈ نے اسرائیلی فوج کو اس کے ارکان، افسروں اور ساز و سامان کے لحاظ سے نقصان پہنچایا۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسامہ حمدان نے کہا اسرائیل چوبیس گھنٹے اپنا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب وہ جنوبی غزہ پر اسی طرح بمباری کر رہا ہے جیسا اس نے شمالی غزہ میں کی تھی۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے شفا میڈیکل کمپلیکس کے ڈائریکٹر کو کمپلیکس خالی کرانے کے لیے 6 بار طلب کیا اور طبی عملے کو وہاں سے جانے پر مجبور کیا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج ان علاقوں میں قتل عام کر رہی ہے جو اس کے دعویٰ کے مطابق محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا شہید ہونے والوں میں سے 43 فیصد جنوبی غزہ کی پٹی میں ہیں۔انہوں نے تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج کو شفا اسپتال میں کوئی مبینہ کمانڈ روم نہیں ملا۔
یاد رہے اسرائیل نے اسپتال میں حماس کے کمانڈ روم کی موجودگی کا دعویٰ کیا تھا۔ اسامہ حمدان نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے شفا اسپتال سے کچھ نعشیں بھی اغوا کرلی ہیں اور اسی بنا پر اسرائیل اب حماس کے متعدد رہنماؤں کو مار ڈالنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔العربیہ ڈاٹ کام نے شفا اسپتال کے اندر سے خصوصی مناظر نشر کیے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے کچھ نعشیں منتقل کی ہیں۔ ہفتے کے روز حماس نے اپنی قانون ساز کونسل کے سربراہ احمد بحر کی ہلاکت کا اعلان کیا اور بتایا کہ احمد بحر اسرائیلی بمباری کی زد میں آکر جاں بحق ہوئے۔یہ پہلا موقع ہے کہ حماس نے سات اکتوبر کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اپنے ایک سینئر رہنما کے جاں بحق ہونے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے اس جنگ میں اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 12300 ہوگئی ہے۔
کئی روز محاصرہ کے بعد 41 نومولودوں کو شفا اسپتال سے نکال لیا گیا
غزہ، 20نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)غزہ کے اسپتالوں کے ڈائریکٹر محمد زقوت نے اعلان کیا ہے کہ کئی روز کے محاصرہ کے بعد بالآخر غزہ کے شفا میڈیکل کمپلیکس سے تمام 41 قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو نکال لیا گیا ہے۔ العربیہ/الحدث کے نمائندے نے اتوار کو اطلاع دی کہ بچے رفح کے اماراتی اسپتال پہنچے ہیں۔ تین بچے راستہ میں ہی دم توڑ گئے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بچوں کو کل مصری سرزمین پر منتقل کر دیا جائے گا۔مقامی مصری میڈیا کے مطابق یہ سب اس وقت ہوا جب رفح کراسنگ سے ایمبولینسز غزہ میں داخل ہوئیں تاکہ بچوں کو صحت کی دیکھ بھال کے لیے مصر کی طرف لے جایا جا سکے۔فلسطینی ہلال احمر نے وضاحت کی کہ اس کی ایمبولینس کے عملے نے اتوار کے روز عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی ہمدردی کے رابطہ کے ساتھ مل کر غزہ کے شفا اسپتال سے قبل از وقت پیدا ہونے والے درجنوں بچوں کو نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔
انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ قبل از وقت نومولود بچوں کو چند روز قبل محصور طبی مرکز سے ایمبولینسوں کے ذریعے جنوب میں منتقل کیا گیا تھا۔ ان بچوں کو مصر کے شہر رفح میں ایمریٹس اسپتال منتقل کیا جارہا۔ فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا تھا کہ بچوں کو نکالے جانے سے قبل 120 زخمی افراد شفا اسپتال میں موجود تھے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا اندازہ ہے کہ لگ بھگ 2,300 لوگ اب بھی میڈیکل کمپلیکس میں پھنسے ہوئے ہیں۔
شفا اسپتال کے نیچے 55 میٹر طویل سرنگ ملی ہے: اسرائیلی فوج کا دعویٰ
مقبوضہ بیت المقدس، 20نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں شفا اسپتال کے نیچے 55 میٹر لمبی سرنگ تلاش کرلی ہے۔ اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے اس نے سرنگ کی ویڈیو بھی شائع کی ہیں۔فوج نے ایک ویڈیو کلپ کے ساتھ ایک فوجی بیان میں وضاحت کی کہ سرنگ دس میٹر کی گہرائی میں واقع ہے۔ دوسری طرف عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اسپتال میں اب بھی درجنوں مریض اب بھی موجود ہیں۔اسرائیلی فوج نے کہا وہ داخلی سلامتی سروس (شاباک) اور انٹیلی جنس سروس (امان) کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر سرنگ کو سامنے لانے کے لیے شفا اسپتال منتقل ہوئے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ سرنگ جس سے ایک گہری سیڑھیاں داخلی دروازے کی طرف جاتی ہیں کو مختلف دفاعی اقدامات سے لیس کیا گیا ہے۔
اس میں ایک بالائی دروازہ اور فائرنگ کا سوراخ بھی موجود ہے۔ اس قسم کا دروازہ حماس ہماری افواج کو داخل ہونے سے روکنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ یہاں حماس کا ہیڈ کوارٹرز اور اس کے زیر زمین اثاثے موجود ہیں۔فوج نے یہ بھی کہا کہ اسے سرنگ کے کھلنے کے وقت ایک کار ملی جس میں بہت سے ہتھیار تھے۔ فوجی بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج سرنگ کے راستے کھولنے کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔مزید برآں، فوج کے ترجمان اویچائی ادرائی نے ایکس پر انکشاف کیا کہ حماس کے 100 سے زائد ارکان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ان میں تین وہ ارکان بھی ہیں جنہوں نے 7 اکتوبر کے حملے میں حصہ لیا تھا۔
غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش نے کہا کہ طبی عملے، زخمیوں اور بے گھر افراد کو بندوق کی نوک پر شفا میڈیکل کمپلیکس خالی کرنے پر مجبور کیا گیا۔فلسطینی ہلال احمر نے بتایا کہ اس کی ایمبولینس کے عملے نے اتوار کو عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (OCHA) کے تعاون سے شفا اسپتال سے قبل از وقت پیدا ہونے والے 31 بچوں کو نکال لیا ہے۔ ان بچوں کو بعد میں امارات منتقل کردیا گیا۔یہ میڈیکل کمپلیکس اس وقت زمینی کارروائیوں کے مرکز میں تبدیل ہو گیا جب بدھ کو اسرائیلی فوج نے اس پر دھاوا بول دیا تھا اور اپنے حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ حماس اس اسپتال کے تہ خانوں کو استعمال کر رہی ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج نے اس اسپتال کو کھنگال ڈالا مگر وہ اسپتال میں حماس کے کسی مرکز کی موجودگی ظاہر نہ کر سکی تھی۔
حماس کی طرف سے بارہا اسرائیلی الزام کی تردید کی گئی اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی اس معاملہ کی تحقیقات کے لیے بھیج دی جائے۔اسرائیلی ٹینکوں کے حصار میں موجود شفا میڈیکل کمپلیکس سے ہفتہ کو سینکڑوں افراد پیدل جنوب کی طرف نکلے۔ صلاح الدین سٹریٹ پر ان پر حملہ کردیا گیا۔ صہیونی فوج کے اس حملے کے بعد سڑک پر لگ بھگ 15 نعشیں بکھری ہوئی دیکھی گئیں۔یاد رہے 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی اس جنگ میں 44 دنوں کے دوران 13000 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ 6000 فلسطینی لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خیال ہے وہ بھی شہید ہوچکے ہیں اور ان کی نعشیں بمباری میں ملیامیٹ کی گئی عمارتوں کے ملبے تلے موجود ہیں۔اسرائیل اور حماس کے درمیان 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر فلسطینی تحریک کے اچانک حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں تقریباً 1200 اسرائیلی مارے گئے تھے۔شہدا میں 5500 سے زیادہ بچے شامل ہیں۔ 30000 فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں۔
اسرائیل کے مزید تین ریزرو فوجی غزہ میں ہلاک
مقبوضہ بیت المقدس، 20نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی فوج کے تین ریزرو فوجی حماس کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے۔ یہ لڑائی غزہ کی پٹی پر حماس کے ساتھ ہوئی۔ اب تک اسرائیلی فوج کے مطابق غزہ میں زمین پر جاری لڑائی میں 62 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔تاہم اسرائیلی فوج نے یہ بطور خاص بتایا ہے کہ نئے مرنے والے تین اسرائیلی ریزرو فوجی تھے، ریگولر اسرائیلی فوجی نہیں تھے۔واضح رہے جنگ کے شروع میں ہی ریگو لر فوجیوں کی مدد کے لیے اسرائیل نے تقریباً ساڑھے تین لاکھ ریزرو فوجی کی کمک حاصل کر لی تھی۔ اسرائیلی فوجی حکام کو اندازہ تھا کہ غزہ میں زمین پر جنگ آسان نہیں ہو گی۔دوسری جانب ریزرو فوجیوں نے اس جنگ سے پہلے ہی ایک مہم شروع کر رکھی تھی۔ مہم کا مقصد جنگوں میں شرکت سے ریزرو فوجیوں کو چھٹکارا دلانا تھا۔تاہم جنگ کی خوفناکی کی وجہ سے اسرائیلی فوج نے ریگولر فوجیوں کا نقصان کم رکھنے کے لیے فوجی کمان نے ریزرو فوجیوں کو طلب کر لیا تھا؛کیونکہ غزہ میں زمین پر لڑائی کے بہت خطرناک ہونے کا اندیشہ موجود تھا۔ یہ نئی تین ہلاکتیں ہفتے کے روز ہوئی ہیں، البتہ اتوار کے روز کسی بھی فوجی کے نقصان کا ذکر ابھی نہیں کیا ہے.
حماس رہنماوں کے گھروں پر اسرائیلی فوج کے چھاپے
غزہ، 20نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق اتوار کے روز حماس رہنماوں کے گھروں میں چھاپے مارے گئے ہیں تاکہ حماس کے سارے عسکری ڈھانچے کو توڑا جا سکے۔بیان کے مطابق ان چھاپوں کے دوران اسرائیلی فوج نے جو ہتھیار برآمد کیے ہیں ان میں لیپ ٹاپس، ٹیکٹیکل یونیفارم، گھٹنوں کی حفاظت کے لیے پہنی جانے والی ‘ نی پیڈز ‘ شرٹس، میگزینوں کے علاوہ تکنیکی نوعیت کی دستاویزات قبضے میں لی ہیں۔اسرائیلی فوج کے مطابق یہ چھاپے غزہ میں شیخ اجلین اور رمل کے علاقوں میں مارے گئے ہیں۔ فوجیوں نے تقریباً 35 سرنگوں کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں کو تلاش کیا ہے۔ تاکہ حماس کے جنگی ڈھانچے کا پتہ چلایا جا سکے۔اتوار کے روز جاری کر دہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بڑی مقدار میں اسلحہ اور دہشت گردوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حماس کے فوجی بیس میں کارروائی کر کے فوجی جاسوسی کے ادارے ملٹری انٹیلی جنس یونٹ کو قبضے میں لے لیا ہے۔ اسرائیلی فوجیوں نھ سات راکٹ لانچرز بھی قبضے میں لی گئی ہیں۔ تاہم بیان میں کسی بھی قسم کی مزاحمت کا ذکر نہیں کیا گیا۔
فوجی بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ‘رمل’ جو کہ حماس کے سینئیر عہدے داروں کا رہائشی علاقہ ہے۔ اس علاقے میں انہوں نے دہشت گردانہ کارروائیوں مقامی عمارتوں کا کنٹرول حاصل کر رکھا تھا۔اسرائیلی ‘پیراٹروپرز بریگیڈ ‘ کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں حماس کی فوجی پوسٹوں کے علاوہ، عسکری ڈھانچے کا پتہ چلایا گیا ہے۔ نیز اس علاقے سے لیپ ٹاپس، ٹیکٹیکل یونیفارم، گھٹنوں کی حفاظت کے لیے پہنی جانے والی ‘ نی پیڈز ‘ شرٹس، میگزینوں کے علاوہ تکنیکی نوعیت کی دستاویزات، جیکٹیں اور جوتے بھی قبضے میں لیے ہیں۔اسی طرح اسرائیلی فوج کے بارے میں دستاویزات کے ساتھ ساتھ نفسیاتی جنگ سے متعلق دستاویزات بھی ملی ہیں۔دوسری جانب حماس نے ابھی تک اسرائیلی فوج کے اس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ البتہ غزہ کی وزارت صحت نے اب کے شہدا کی تعداد 12012 بتائی اور زخمیوں کی اب تک کی مجموعی تعداد 32300 بتائی ہے۔
غزہ کیخلاف جارحیت رکنے تک اسرائیل مخالف کارروائیاں جاری رہے گی: یحییٰ سریع
دبئی، 20نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)یمن کے حوثیوں کی ذیلی تنظیم انصار اللہ کے ترجمان یحییٰ سریع نے بحیرہ احمر میں ایک اسرائیلی جہاز کو قبضے میں لینے اور اسے عملے سمیت ساحل پر لے جانے کی تصدیق کی ہے۔یمن میں حوثیوں کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کردہ بیان میں کہا ہے کہ ’یمنی مسلح افواج نے قبضے میں لیے گیے جہاز پر موجود عملے سے اسلامی تعلیمات اور اقدار کے مطابق سلوک رکھا ہے۔‘بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایسا مظلوم فلسطینی عوام کے لیے ہماری مذہبی، انسانی اور اخلاقی ذمہ داری اور اسرائیلی ناجائز محاصرے اور وحشیانہ قتل عام کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔حوثی ترجمان نے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’غزہ کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے خاتمے تک ہماری کارروائیاں جاری رہیں گی۔دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے اتوار کو ترکی سے انڈیا جانے والے ایک مال بردار بحری جہاز پر قبضہ کر لیا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے اتوار کو اپنے بیان بحری جہاز کا نام تو نہیں بتایا تاہم کہا ہے کہ ’بحری جہاز کے عملے میں کوئی اسرائیلی شامل نہیں ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے ایک بیان میں اسے ’بین الاقوامی بحری جہاز پر ایرانی حملہ‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔اس سے قبل اتوار ہی کو یحیٰ سریع کا ایک اور بیان بھی سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ وہ ’ان تمام جہازوں کو نشانہ بنانے والے ہیں جو اسرائیل کی ملکیت ہیں یا انہیں اسرائیلی کمپنیاں چلاتی ہیں یا ان پر اسرائیلی پرچم لگا ہوا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یحییٰ سریع کا یہ بیان حوثیوں کے ٹیلی گرام چینل پر شیئر کیا گیا ہے۔بیان کے مطابق یحییٰ سریع نے تمام ممالک سے کہا ہے کہ وہ اپنے ایسے شہریوں کو واپس بلا لیں جو ایسے کسی بھی جہاز پر بطور عملے کے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم عملے کے ساتھ اسلامی اصولوں کے مطابق سلوک کر رہے ہیں، ہم غزہ کے خلاف جارحیت بند ہونے تک اسرائیل کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔



