اسرائیل کو پے در پے تکلیف دہ ضربیں لگ رہی ہیں: عبرانی میڈیا
اسرائیلی پریس میں اس پیشرفت کو عالمی سیاسی میدان میں کارڈز کی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس،14مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کی ثالثی سے ڈرامائی انداز میں سفارتی تعلقات کی بحالی کے اعلان پرعبرانی میڈیا اور اسرائیل کے سیاسی حلقے چراغ پا ہیں۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کا اعلان صہیونی ریاست پر بجلی بن کر گرا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عبرانی میڈیا اس اہم علاقائی اور عالمی پیش رفت پر مسلسل نشریات پیش کررہا ہے۔ اسرائیلی پریس میں اس پیشرفت کو عالمی سیاسی میدان میں کارڈز کی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ میڈیا میں اس تبدیلی کے اثرات اور نتائج اور اس کینتیجے میں ہونے والی تبدیلیوں پر بات کی جا رہی ہے۔
اسرائیلی پریس میں اسے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی بڑھتی ہوئی ادارہ جاتی اور تزویراتی کمزوری سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔عبرانی اخبارگلوبز نے لکھا ہے کہ اسرائیل مین خزاں کے وسط میں آنے والے حالیہ موسم سرما کی تو بات ہی نہ کریں۔ کیونکہ مارچ کے پہلے ہفتے میں پیش آنے والے واقعات یکے بعد دیگرے حملے تھے۔
سعودیہ – ایران چین کی ثالثی سیسفارتی معاہدہ، روس کے یوکرین پرآواز سے تیز رفتار میزائلوں کے حملے، امریکا میں ناکام سلیکن ویلی، بینک کی بندش اور مالیاتی منڈیوں میں عدم استحکام اسرائیل کے لیے تکلیف دہ چوٹوں سے کم نہیں اخبار نے نشاندہی کی کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کو دوبارہ شروع کرنے کے معاہدے کے اعلان کے بارے میں سب سے زیادہ حیران کن کیا ہے: وہی معاہدہ جو سامنے آیا، یا عام طور پر اس کے پیچھے چین کی بے مثال سرپرستی ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ یہ معاہدہ کم از کم ایک چیز کی ضمانت دے سکتا ہے جو کہ جمود ہے۔ مشرق وسطیٰ میں برسوں کی مخاصمت کے بعد سعودی عرب نے ایران کا مقابلہ کرنا چھوڑ دیا۔اخبار نے لکھا کہ پچھلے دو سال میں رخ بدلنے میں سعودی دلچسپی کے اشارے ملے ہیں۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے الیکشن مہم میں کہا تھا کہ وہ جمال خاشقجی قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کریں گے۔



