اعتکاف کا عمل بندہ مومن کے لئے اللہ کی رضا،خوشنودی اور تقرب حاصل کرنے کاایک بے مثال اورمنفرد طریقہ ہے ، حدیث پاک کا مفہوم ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایاجو شخص اللہ کی رضا کے لئے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقوں کو آڑ بنا دیں گے۔
ایک خندق کی مسافت آسمان و زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے۔ایک اور حدیث میں ہے کہ جس نے اللہ کی رضاکے لئے ایمان اور اخلاص کے ساتھ اعتکاف کیا تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہوجائیں گے ،(یعنی کہ تمام صغیرہ گناہ معاف ہوجائیں گے کیونکہ گناہ کبیرہ کے لئے توبہ شرط ہے)
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تقرب الی اللہ کے حصول کے لئے اپنی امت کوایسا منفراور آسان طریقہ عطا فرمایاکہ ایک انسان اگراپنے رب کا تقرب چاہتاہے تو اپنے آپ کو کچھ دنوں کے لئے اللہ کے حضور وقف کردے اور دنیا سے الگ تھلگ ہو کر صرف اللہ رب العزت سے لو لگالے ،اعتکاف کی روح اور حقیقت بھی یہی ہے کہ آپ کچھ مدت کے لئے ہر کام اور ہر کاروبار سے الگ ہو کر اپنے آپ کو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے وقف کردیں یہاں تک کہ اپنے اہل وعیال اور گھر بار چھوڑکر اللہ کے گھر میں گوشہ نشیں ہوجائیں اور سارا وقت اللہ سبحانہ تعالیٰ کی عبادت وبندگی اور اس کے ذکرو فکراور تلاوت قرآن پاک میں گزارے۔
شریعت میں اعتکاف کا منشاء تیاگ اورتپسیا بالکل نہیں ہے کہ انسان تاریک دنیا ہوجائے بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے کچھ دنوں کے لئے صرف اورصرف اللہ کے لئے اللہ کے گھر میں یکسوہوجاے ۔
اعتکاف کا حاصل بھی یہی ہے کہ معتکف کی عملی زندگی میں ایسی تبدیلی آجائے کہ اللہ تعالیٰ اوراس کی بندگی کو دنیا کی ہر چیز پرفوقیت اور ترجیح حاصل ہوجائے ،معتکف کو چاہئے کہ دوران اعتکاف اپنے اوقات کو لایعنی اورفضول باتوں میں ضائع نہ کرے ایسابھی نہ ہو کہ ہر وقت سوتاہی رہے یایوں ہی چپ چاپ بیٹھارہے بلکہ اس کے ہر ہر لمحہ اوراعتکاف کی توفیق کو اپنے لئے سنہری موقع سمجھتے ہوئے جتنا زیادہ سے زیادہ ہو ذکر واذکار ، سنت ونوافل ، استغفار ، تلاوت قرآن پاک اور اگر ذمہ میں کچھ نمازیں باقی ہوتو قضائے عمری وغیرہ ادا کرنے میں صرف کرے کیونکہ معتکف دوران اعتکاف اللہ کی نوری مخلوق فرشتوں کے مشابہ ہوجاتا ہے جو بالکل بھی اللہ سبحانہ تعالی کی معصیت نہیں کرتے بلکہ ہمہ وقت اللہ کے احکامات کی بجاآوری کیلئے مستعدرہتے ہیں اور اللہ کی تسبیح وتحلیل میں لگے رہتے ہیں ۔
اعتکاف کی اہمیت اورفضیلت متعدد احادیث پاک سے بھی واضح ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک بار یکم رمضان تا بیس رمضان تک اعتکاف کرنے کے بعد فرمایا: میں نے شب قدر کی تلاش کے لیے رمضان کے پہلے عشرہ کا اعتکاف کیا۔
پھر درمیانی عشرہ کا اعتکاف کیا پھر مجھے بتایا گیا کہ شب قدر آخری عشرہ میں ہے سو تم میں سے جو شخص میرے ساتھ اعتکاف کرنا چاہے، وہ کر لے،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے، وفات تک آپ کا یہ معمول رہا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی ازواج مطہرات اہتمام سے اعتکاف کرتی رہیں۔ (بخاری ومسلم)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے، لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔ (بخاری)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کرنے والے کے لیے فرمایا کہ وہ (اعتکاف کی وجہ سے مسجد میں مقید ہوجانے کی وجہ سے) گناہوں سے بچا رہتا ہے اور اس کے لیے نیکیاں اتنی ہی لکھی جاتی ہیں جتنی کرنے والے کے لیے (یعنی اعتکاف کرنے والا بہت سے نیک اعمال مثلاً جنازہ میں شرکت، مریض کی عیادت وغیرہ سے اعتکاف کی وجہ سے رکا رہتا ہے، ان اعمال کا اجروثواب اعتکاف کرنے والے کوکیے بغیر ہی ملتا رہتا ہے)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے کہ لیلۃ القدر کو رمضان کی آخری راتوں میں تلاش کیا کرو۔
رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے اعتکاف کی ادائیگی میں اللہ رب العزت سے یقین کامل ہے کہ انسان اس رات کی عظمت کو پا لے جس کے بارے میں قرآن پاک میں خود اللہ رب العزت نے فرمایاہے کہ ’’شب قدر ہزارمہینوں سے بہترہے ‘‘یعنی اس ایک رات کی عبادت ہزارمہینوں کی عبادت سے بہتر ہے اور ہزارمہینے تقریبا تراسی سال چارہ ماہ بنتے ہیں یہ امت محمدیہ ﷺ پر اللہ رب العزت کا احسان عظیم ہے کہ مختصرعمر میں اجروثواب حاصل کرنے کی کیسی سہولت عطا فرمادی۔
اس عظیم اور سلامتی والی رات کی عظمت ،روحانیت اور اس رات کی ہر خیر کے حصول کے لئے خود نبی پاک ﷺ نے اپنی امت کویہ دعاکثرت سے پڑھنے کی تلقین فرمائی ہے اللہم انک عفواتحب العفوفاعف عنی، اے اللہ تومعاف کرنے والا کرم والا ہے اورمعافی کو پسندکرتاہے سو مجھے معاف کردے احادیث اور اکابرین امت کے قرائن سے پتہ چلتاہے کہ یہ سلامتی اور خیر والی رات ماہ صیام کے آخری عشرہ کے طاق راتوں میں واقع ہیں۔
جس کو تلاش کرنے کی امت محمدیہ ﷺ کو ترغیب دی گئی ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہم سب کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی اس عظیم سنت اعتکاف کواداکرنے کی توفیق عطافرمائے تاکہ ہم سب لیلۃ القدر جیسی عظیم رات کی ہر خیر اورسلامتی کو پانے والوں میں سے ہوسکیں ۔