بین الاقوامی خبریںسرورق

کبھی نظریں ہٹا بھی لیا کریں،موبائل کے موجد کا صارفین کو مشورہ

سائنسدان مارٹن کوپر نے مشورہ دیا ہے کہ ’صارفین ہر وقت موبائل کی اسکرین کو ہی دیکھتے رہتے ہیں، کبھی نظریں ہٹا بھی لیا کریں

نیویارک ، 30مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) 50 سال قبل موبائل فون ایجاد کرنے والے سائنسدان مارٹن کوپر  Martin Cooper نے مشورہ دیا ہے کہ ’صارفین ہر وقت موبائل کی اسکرین کو ہی دیکھتے رہتے ہیں، کبھی نظریں ہٹا بھی لیا کریں۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ انٹرویو میں 94 سالہ امریکی انجینئر مارٹن کوپر جن کو ’بابائے موبائل فون‘ کہا جاتا ہے، نے بتایا کہ آ ج ہماری جیب میں جو صاف ستھرا آلہ موجود ہے یہ بہت صلاحیت کا حامل ہے اور ایک دن بیماری پر قابو پانے میں بھی مدد دے گا لیکن فی الحال اس نے ہم کو کسی حد تک ’جنونی‘ بنا رکھا ہے۔مجھے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے جب کوئی راستے پر چلنے والا موبائل پر نظریں گاڑے چلا جا رہا ہے۔

وہ ذہنی طور پر کہیں اور ہوتے ہیں۔ انہوں نے مذاقاً کہا کہ لگتا ہے جب کچھ لوگ (اسی حالت میں) گاڑیوں کے نیچے آئیں گے تو انہیں احساس ہو گا۔مارٹن کوپر خود بھی ایپل کی گھڑی پہنتے ہیں اور آئی فون کا استعمال کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے میں سمجھ سکتا ہوں کہ میں موبائل کو آج اس طرح سے استعمال نہیں کر سکتا جس طرح میرے نواسے اور پوتیاں پوتے کرتے ہیں۔مارٹن کوپر طویل محنت کے بعد تین اپریل 1973 کو ایسا موبائل فون بنانے اور اس پر کال کرنے میں کامیاب ہوئے تھے جو کہ بہت بڑا تھا اور اس میں بہت زیادہ تاریں اور سرکٹس تھے۔اس وقت وہ موٹورولا کمپنی کے ساتھ کام کرتے تھے جو موبائل فون بنانے پر کام کر رہی تھی۔کمپنی نے اس امید کے ساتھ منصوبے میں لاکھوں ڈالر لگائے کہ وہ بیل کمپنی سے پہلے یہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گی جو 1877 سے کام کر رہی تھی۔بیل کے انجینئرز نے دوسری عالمی جنگ کے فوراً بعد ہی موبائل فون کا آئیڈیا پیش کیا تھا اور 60 کی دہائی کے آخر تک کار کے اندر رکھنے والا فون بنانے میں کامیاب ہوئے کیونکہ اس کی بیٹری بہت بڑی تھی اور چلتے پھرتے ہوئے استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا۔

تاہم مارٹن کوپر کے نزدیک یہ موبیلٹی کے اس تصور سے بہت دور تھا جس کا مطلب ہے کہ کہیں بھی فون کو آسانی کے ساتھ لے جایا جا سکے۔1972 کے آخر میں انہوں نے ایسا ہی فون بنانے کا ارادہ کیا جس کو کوئی بھی کہیں بھی لے جا سکے گا۔ان کو موٹورولا کمپنی کی جانب سے جتنے بھی وسائل دستیاب تھے وہ انہوں نے اپنی تحقیق میں لگا دیئے اور تین ماہ بعد یعنی اگلے سال کے مارچ تک انہوں نے یہ کام کر دکھایا اور ڈائنا ٹیک فون بنانے میں کامیاب ہوئے۔اس کے بارے میں کوپر نے بتایا کہ اس کا وزن ایک کلو سے زائد تھا اور اس کی بیٹری 25 منٹ تک ہی کام کرتی تھی۔ اصل مسئلہ بیٹری ٹائمنگ کا نہیں تھا بلکہ وزنی ہونے کا تھا اور اس کو 25 منٹ تک مسلسل اٹھائے رکھنا مشکل تھا۔

مارٹن کوپر کہتے ہیں کہ اس موبائل سے میں نے بیل کمپنی کے انجینئر ڈاکٹر جوئل اینگل کو کال کیا اور بتایا کہ میں مارٹن کوپر ہوں اور ایک ایسے موبائل فون سے بات کر رہا ہوں جس کو ایک ہاتھ سے اٹھایا ہوا ہے۔ان کے مطابق دوسری جانب خاموشی چھا گئی۔ میرا خیال ہے کہ وہ دانت پیس رہا تھا۔اگرچہ آج موبائل سب کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے تاہم اس کا فائدہ اٹھانے میں ہم ابھی بھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔ مستقبل میں اس کو اس تعلیم اور صحت کے میدانوں میں اتقلابی تبدیلیوں کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ موبائل فون کے ذریعے کئی بیماریوں پر قابو پایا جا سکے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button