
دبئی ، 24اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مبصرین اور تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ ایران میں گزشتہ ماہ کے وسط سے جو مظاہرے ہو رہے ہیں اس کی وجہ دہائیوں سے نوجوانوں پر مسلط جابرانہ قوانین بھی ہیں۔ان مظاہروں نے ثابت کر دیا کہ حکمرانوں اور نوجوان طبقے کے درمیان خلیج بڑھ گئی ہے۔سوشل میڈیا کی نسل یا جنریشن سیون اب طاقت کے ذریعہ محدود کئے جانے اور مسلط کی گئی پابندیوں سے گویا تنگ آ چکی ہے۔ان احتجاجی مظاہروں کے بعد نوجوانوں میں آزادی کی لہر اٹھ رہی ہے اور ایران میں اس آزادی کی علامات نظرآنے لگی ہیں۔
تہران میں چہل قدمی کرنے والوں کو تبدیلی نظر آئے گی کیونکہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایرانی کارکنوں کے درمیان پھیلنے والے بہت سے ویڈیو کلپس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوانوں میں ایک باغیانہ رویہ سامنے آنا شروع ہوگیا ہے۔ اس کا ایک مظہر اس وقت سامنے آیا جب دارالحکومت کی میٹرو میں درجنوں نوجوان خواتین بغیر اسکارف کے نمودار ہوگئیں۔جبکہ تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے ویڈیو کلپس میں نوجوان مرد اور خواتین طالب علموں کو "کیفے ٹیریا” میں ایک ساتھ بیٹھتے ہوئے اور علیحدگی کے قوانین کو توڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ایرانی دارالحکومت کے مشہور ترین نشانات میں سے ایک آزادی ٹاور کے سامنے ایک نوجوان ایرانی خاتون نے تو رقص کرڈالا ، خاتون نے اپنے بال نیچے کر دیے اور حکومت کی مخالفت کی۔ ہزاروں خواتین نے اس خاتون کی ہے۔ بڑی تعداد میں خواتین چھ ہفتے پہلے سڑکوں پر آئیں اور اب بھی اپنے اڑتے بالوں سے اخلاقی پولیس کی نفی کر رہی ہیں۔ایرانی کارکنوں اور مغربی صحافیوں نے اس ویڈیو کو دوبارہ شیئر کیا جو اس سے قبل مظاہروں کے دوران گردش میں آئی تھی۔نیٹ ورک ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز ملک میں ٹیکنالوجی کے میدان میں سب سے اونچے درجے کی شریف یونیورسٹی میں احتجاج کرنے والے طلبا اور سیکورٹی فورسز کے درمیان تصادم دیکھنے میں آیا۔کئی طالبات سر سے اسکارف اتار کر سٹوڈنٹ ڈائننگ ہال میں داخل ہوئیں۔دریں اثنا یونیورسٹی نے اعلان کیا کہ اس نے اپنے کیمپس میں غیر آرام دہ ماحول پیدا کرنے میں ملوث ہونے کی بنیاد پر طلبہ کے ایک چھوٹے گروپ کو اپنے کیمپس میں داخل ہونے سے عارضی طور پر روک دیا ہے۔
Au tour des étudiants de l’université Amir Kabir de Téhéran, après celle de Sharif, de mettre fin à la ségrégation sexuelle dans le resto universitaire, où garçons et filles se sont mélangés ce dimanche 23 octobre et ont entonné « Baraye (Pour) », l’hymne de la révolte en #Iran. pic.twitter.com/nC2vyqE5b2
— Armin Arefi (@arminarefi) October 23, 2022
خیال رہے کہ16 ستمبر کو پولیس حراست میں مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہرے تاحال کمزور نہیں ہوئے ہیں۔مہسا کی موت کے بعد سے کئی مسائل پر نوجوانوں میں غصے کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔ ان مسائل میں ذاتی آزادیوں پر پابندیاں اور خواتین کے لباس سے متعلق سخت قوانین، معاشی بحران اور حکومت اور حکومتی سیاسی ڈھانچے میں نافذ کردہ سخت قوانین ہیں۔وہیں دُشمن ممالک جیسے امریکہ وغیرہ پر مظاہرین کی حمایت کرنے اور احتجاج کو شہَ دینے کا الزام ہے ۔
ایران میں ایٹمی جوہری توانائی کا سرور ہیک کرلیا گیا
تہران؍لندن، 24اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم نے کہا ہے کہ جوہری توانائی کے ذیلی اداروں میں سے ایک محکمے کا ای میل سرور بیرون ملک سے ہیک کرکے تمام معلومات آن لائن جاری کی گئی ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ’بلیک ریوارڈ‘ نامی ایرانی ہیکنگ گروپ نے سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا ہے کہ انہوں نے ایران میں مظاہروں کی حمایت کے لیے ایرانی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے ہیک شدہ معلومات جاری کی ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ مہینے 22 سالہ مہسا امینی کو اخلاقی پولیس نیاسکارف ’ٹھیک سے نہ پہننے پر‘ گرفتار کیا تھا، حراست کے دوران وہ کومہ میں چلی گئی تھیں جہاں وہ انتقال کر گئی تھیں، ان کی موت کے بعد ایران میں حالیہ برسوں کے بڑے مظاہرے شروع ہوئے۔ہیکر کی جانب سے 22 اکتوبر کوٹوئٹر کی ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ مہسا امینی اور خواتین کی زندگی اور آزادی کے لیے‘، اور اس پیغام کے ساتھ ہی معلومات جاری کردی گئی تھیں۔
ہیکر گروپ بلیک ریوارڈ نے بتایا کہ جاری کردہ معلومات ہوشر پاور پلانٹ کے انتظام اور آپریشنل شیڈول کے حوالے سے ہے، اس کیعلاوہ وہاں کام کرنے والے ایرانی اور روسی ماہرین کے پاسپورٹ اور ویزہ، ملکی اور غیر ملکی شراکت داروں سے ایٹمی معاہدے کے حوالے سے بھی تفصیلات شامل ہیں۔ایٹمی توانائی کی تنظیم جنرل ڈپارٹمنٹ آف پبلک ڈپلومیسی اینڈ انفارمیشن نے جاری کردہ معلومات کو خاص اہمیت نہیں دی اور کہا کہ ’ہیکر کا مقصد صرف عوام کی توجہ احتجاج کی جانب مبذول کروانا تھا۔
2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان مذاکرات کئی مہینوں سے تعطل کا شکار ہیں دوسری جانب 12 اکتوبر کو امریکا کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ایران جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے خاص دلچسپی نہیں رکھتا۔اسی دوران مہسا امینی کے حق میں احتجاج کرنے والے مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران میں شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی کلاسز معطل کرکے ا?ن لائن کلاسز شروع کی گئی تھیں۔تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ جب 22 اکتوبر کو کلاسز دوبارہ شروع کی گئیں تو کئی طالبات ایران کے لازمی حجاب پہنے کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حجاب کے بغیر مردوں کے لیے مختص ہال میں داخل ہوئی تھیں۔



