میری گرفتاری پر آنے والے ردِعمل کو کوئی نہیں سنبھال سکے گا:عمران خان
خصوصی انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ اب خود تسلیم کر رہے ہیں کہ تحریکِ انصاف کی حکومت انہوں نے گرائی
لاہور،11فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس وقت پی ڈی ایم اور اسٹیبلشمنٹ ایک ہی طرف کھڑے ہیں اور اب بھی جنرل باجوہ کی پالیسی ہی چل رہی ہے۔لاہور میں خصوصی انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ اب خود تسلیم کر رہے ہیں کہ تحریکِ انصاف کی حکومت انہوں نے گرائی، لہٰذا فوج کے اندر ان کے خلاف انکوائری ہونی چاہیے۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر حکومت انہیں گرفتار کرتی ہے تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ اْن پر قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے جس کے بعد انہیں دوسری زندگی ملی ہے۔ لیکن ان کی گرفتاری پر جو ردِعمل آئے گا، اسے کوئی نہیں سنبھال سکے گا۔عمران خان نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ مجھے نااہل کرا کر جیل میں ڈال دیا جائے، کیوں کہ یہ سب خوف زدہ ہیں کہ جب بھی انتخابات ہوں گے تو یہ ہار جائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ اب خود تسلیم کر رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت اْنہوں نے گرائی۔ وہ خود اب یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ رجیم چینج آپریشن انہوں نے کرایا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ان (جنرل باجوہ) کے اوپر فوج کے اندر انکوائری ہونی چاہیے کہ اُنہوں نے جو تکبرانہ باتیں کیں جیسے کہ وہ معیشت کے بڑے ماہر تھے کہ میں نے یہ فیصلہ کیا، لہٰذا فوج کے اندر اس پر انکوائری ہونی چاہیے۔سابق وزیرِ اعظم نے کابینہ اجلاس میں سعودی ولی عہد سے متعلق نازیبا زبان استعمال کرنے کے الزام کی بھی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا۔خیال رہے کہ کالم نویس جاوید چوہدری نے جمعرات کو سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کا احوال بیان کیا تھا۔
جاوید چوہدری کے کالم کے مطابق جنرل باجوہ نے انہیں بتایا کہ عمران خان کی حکومت ملک کے لیے خطرناک تھی اور معیشت بیٹھ رہی تھی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ یوں لگتا ہے کہ جنرل باجوہ اَب صفائیاں دے رہے ہیں۔ لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہوں نے سازش کر کے جو عمران خان کی حکومت گرائی وہ فیصلہ ٹھیک تھا۔ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ ایک آرمی چیف کے پاس اتنی طاقت ہونی چاہیے کہ وہ ایک منتخب حکومت کو ختم کر سکے۔سابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کی یہ سوچ نہیں ہے کہ ملک میں صدارتی نظام ہو، لیکن پارلیمانی نظام میں جب کوئی اصلاحات کرنی ہوں تو ایسا کرنا مشکل ہوتا ہے۔



