
واشنگٹن ،۷؍ جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے امریکی سافٹ ویئر کمپنی مائیکروسافٹ کے ساتھ 10 ارب ڈالر کا ایک معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت پنٹاگون نے #مائیکروسافٹ (Microsoft) کی کلاؤڈ سروسز استعمال کرنا تھیں۔ #پنٹاگون کا کہنا ہے کہ اب وہ اس سلسلے میں مائیکروسافٹ اور ایمازون کے علاوہ دوسری کلاؤڈ سروسز کے ساتھ مذاکرات کرے گا۔
یاد رہے کہ کلاؤڈ سروسز سے مراد #کمپیوٹر فائلز اور ڈیٹا دوردراز کے سرور پر رکھنے کی سہولت اور اس تک آسان رسائی دینے والی خدمات ہوتی ہیں۔پنٹاگون نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کے بدلنے کے ساتھ ساتھ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ’جے ای ڈی آئی‘ کلاؤڈ کانٹریکٹ، جو پہلے بھی کئی بار تعطل کا شکار ہو چکا ہے، اب محکمہ دفاع کی ضروریات کو پورا نہیں کرتا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اس بیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ اس معاہدے کو مائیکروسافٹ کو دینے کے خلاف ایمازون نے سابق #امریکی صدر ڈونلڈ #ٹرمپ پر سیاسی تعصب کا الزام لگاتے ہوئے عدالت میں مقدمہ کر رکھا تھا۔ایمازون کا موقف تھا کہ سابق صدر ایمازون کے چیف ایگزیکٹو جیف بیزوز کے خلاف سیاسی تعصب رکھتے ہیں، کیونکہ، بقول ان کے، جیف بیزوز کا ملکیتی اخبار دی #واشنگٹن پوسٹ سابق صدر کی سیاسی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتا رہا ہے۔
اے پی کے مطابق پینٹاگون کے چیف انفارمیشن آفیسر جان شیرمین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایمازون کے ساتھ عدالتی جنگ کے دوران بہت کچھ بدل چکا ہے اور اب بڑے پیمانے پر دی جانے والی کلاؤڈ سروسز میں نئے امکانات پیدا ہو چکے ہیں۔ان کے بقول، اس لیے، ہمیں نئے سرے سے شروعات کرتے ہوئے دوسری #کمپنیوں سے مذاکرات کرنا ہوں گے۔
شیرمین کے مطابق، اس معاہدے کی جگہ، جسے جے ای ڈی آئی (JEDI) کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک اور پروگرام لے گا جس کا نام جوائنٹ وارفائٹر کلاؤڈ کیپیبلٹی رکھا گیا ہے۔ اس معاہدے میں توقع کی جا رہی ہے کہ مائیکروسافٹ اور ایمازون، دونوں کمپنیوں کو ٹھیکے دیے جائیں گے، لیکن ابھی اس سلسلے میں کوئی بات حتمی نہیں ہے۔



