
چین میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن کی تیاریاں شروع
چین میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن جیسے حالات بن رہے ہیں
بیجنگ ، 11مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)چین میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن جیسے حالات بن رہے ہیں۔ اس کے لیے تیاریاں بھی شروع ہو گئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چین میں کووڈ کے معاملوں میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے، یعنی لاک ڈاؤن کی تیاریاں کورونا کی وجہ سے نہیں ہو رہی ہے۔ بلکہ اس کے پیچھے کی وجہ ایک دوسری بیماری ہے۔ دراصل چین میں فلو (بخار) کے کیسز تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔ اس وجہ سے چینی افسران کچھ شہروں میں لاک ڈاؤن لگانا چاہتے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد لوگوں میں غصہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے کووڈ کے وقت جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی شہر شیاؤن میں لاک ڈاؤن کو لے کر ایمرجنسی رسپانس پلان جاری کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ شہر میں انفکشن والے علاقوں کو بند کیا جا سکتا ہے۔ ٹریفک کو کم کرنے کے لیے بھی احکامات جاری کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی پروڈکشن اور کمرشیل سرگرمیوں کو معطل کیا جا سکتا ہے۔
لاک ڈاؤن کی صورت میں شاپنگ مال، تھیٹر، لائبریری، سیاحتی مقامات اور دیگر بھیڑ بھاڑ والے مقامات بھی بند رہیں گے۔ایمرجنسی رسپانس پلان کے مطابق سبھی سطحوں پر اسکولوں اور نرسری کو بند کر دیا جائے گا۔ شیاؤن کی آبادی تقریباً 13 ملین ہے۔ یہ شہر ایک مشہور سیاحتی مقام بھی ہے،اس لیے کسی بھی طرح کی لاپروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن کی خبروں کو لے کر سوشل میڈیا پر لوگوں نے شہری انتظامیہ کی تنقید کی ہے۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ لاک ڈاؤن لگانے کی جگہ عوام کی ٹیکہ کاری کیجیے۔ ایک دیگر شخص نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ ایسی خبروں سے لوگ کیسے نہیں گھبرائیں گے۔ قومی سطح پر واضح ہدایت کے بغیر شیاؤن کے کام اور کمرشیل سرگرمیوں کو معطل کرنے کی تجویز جاری کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔



