پوتین کا مغربی ممالک کو شلجم کھانے کیلئے روس آنے کا مشورہ
چین کے صدر آئندہ ہفتے روس کا اہم دورہ کریں گے
ماسکو،17مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) روس کے صدر ویلادیمیر پیوٹن نے سبزیوں کے بحران پر برطانیہ کا مذاق اڑا دیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ویلادیمیر پیوٹن نے مشورہ دیا کہ مغرب کو ایک بڑے بحران کے درمیان سبزیوں کے لیے روس آنا چاہیے۔رپورٹس کے مطابق پابندیوں کے ساتھ روس کی معیشت کو گرانے میں ناکامی پر روس کے صدر نے برطانیہ کے وزیر کا عوام کو شلجم کھانے کا مشورہ دینے کا مذاق اڑایا ہے۔روسی صدر ویلادیمیر پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کی جنگ کے باعث مغربی پابندیوں کے باوجود روس کی معیشت مستحکم ہے۔انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک خود بھی مسائل کا شکار ہیں جہاں ان کے رہنما مشورہ دیتے ہیں کہ شہری سلاد کے پتے یا ٹماٹر کے بجائے شلجم کا استعمال کریں۔
ویلادمیر پیوٹن نے مزید کہا کہ شلجم ایک اچھی چیز ہے، لیکن شاید انہیں شلجم کے لیے روس آنا پڑے گا کیونکہ ہماری فصل یورپ میں ہمارے پڑوسیوں کے اعداد و شمار سے کافی زیادہ ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق روسی صدر کی یہ بات دراصل برطانوی وزیر ماحولیات تھیریس کوفی کے بیان کی جانب اشارہ تھی۔برطانوی وزیر نے حال ہی میں مختلف سبزیوں کی قلت کے باعث اپنی عوام کو شلجم کھانے کا مشورہ دیا تھا۔
چین کے صدر آئندہ ہفتے روس کا اہم دورہ کریں گے

بیجنگ،17مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)چینی وزارت خارجہ کی جانب سے بتایا گیا کہ صدر شی جن پنگ 20 سے 22 مارچ تک روس کا دورہ کریں گے۔یہ فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد چینی صدر کا پہلا دورہ روس ہوگا۔اس سے قبل ستمبر 2022 میں چین کے صدر نے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن سے ازبکستان کے شہر سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی۔چینی وزارت خارجہ نے بتایا کہ صدر شی جن پنگ روسی صدر کی درخواست پر وہاں جا رہے ہیں۔
ماسکو کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔بیان میں بتایا گیا کہ اس دوران اہم معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے، مگر اس حوالے سے وضاحت نہیں کی گئی۔چینی صدر کا دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب چین کی جانب سے یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔اسی طرح بحیرہ اسود میں امریکی جنگی ڈرون کے تباہ ہونے کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، اس حوالے سے بھی چینی صدر کا دورہ اہم تصور کیا جا رہا ہے۔



