بین الاقوامی خبریںسرورق

رمضان المبارک:حرم مکی میں زائرین کیلئے 40 ملین لیٹر آبِ زمزم

قیمت کی حد مقرر کرنے والے کسی ملک کو تیل فروخت نہیں کریں گے: سعودی عرب

ریاض،15مارچ:(اردودنیانیوز/ایجنسیز)المسجد الحرام اور مسجد نبوی کے امور کی جنرل پریزیڈنسی نے ماہ مقدس رمضان المبارک کے دوران دونوں مقدس ترین مساجد کے زائرین کے لیے 40 ملین لیٹر زم زم کا پانی تقسیم کرنے کے لیے 20 ہزار مقامات کو مختص کردیا ہے۔ اس انتظام میں بین الاقوامی معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکیزگی اور صفائی کو یقینی بنانے کے لیے جدید ترین میکانزم اور ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا گیا ہے۔ پانی کی فراہمی میں زائرین کی سہولت کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔المسجد الحرام میں ماء زم زم تقسیم کرنے کے شعبہ کے ڈائریکٹر عبد الرحمن الزھرانی نے بتایا کہ انتظامیہ نے بابرکت پانی کے 30 ہزار کنٹینر تیار کر کے پوری مسجد میں تقسیم کر دیئے ہیں۔

اندرونی اور بیرونی حصوں میں ماربل کی پانی کی سبلیں الگ سے موجود ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق مسجد حرام میں ان سبیلوں کی تعداد 155 ہے۔عبد الرحمن الزھرانی نے بتایا کہ ادارہ نے روبوٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے زمزم کا پانی فراہم کر کے ایک بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ پانی پلانے کے لیے 80 سمارٹ گاڑیوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ دوسری طرف مسجد نبوی میں رمضان المبارک میں لوگوں کی بڑی تعداد کا احاطہ کرنے کے لیے زمزم کے پانی کی بوتلیں فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کئے گئے ہیں۔ اس منصوبے میں جنازے کے مقامات ، مکبر کی جگہ، معذور افراد کے مقامات، مردوخواتین کے ہالوں کا احاطہ کرتے ہوئے مقدس پانی بھرنے کے 250 ذخیرے فراہم کیے جائیں گے۔الزھرانی نے کہا کہ انتظامیہ نے 24 گھنٹے کے دوران تمام مقامات پر فالو اپ کو مضبوط بنانے کی کوشش بھی کی ہے تاکہ چلنے کے مقامات اور دیگر جگہوں پر تمام ضروریات کی حفاظت اور کوریج کو یقینی بنایا جا سکے۔

قیمت کی حد مقرر کرنے والے کسی ملک کو تیل فروخت نہیں کریں گے: سعودی عرب

ریاض ،15مارچ:(اردودنیانیوز/ایجنسیز)سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ ہم کسی ایسے ملک کو تیل فروخت نہیں کریں گے جو ہماری سپلائی پر قیمتوں کی حد مقرر کرتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ تیل کی قیمتوں پر زیادہ سے زیادہ حد لامحالہ مارکیٹ میں عدم استحکام کا باعث بنے گی۔سعودی پریس ایجنسی نے ’انرجی انٹیلی جنس ‘کے ساتھ ان کے انٹرویو کی مزید تفصیل بتائی ہے۔ اس انٹرویو میں شہزادہ عبد العزیز نے کہا سال کے آخر تک پیداوار میں کمی کے لیے اوپیک پلیس معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے پر عزم ہیں۔انہوں نے کہا بہت سے عوامل ہیں جو مارکیٹ کے رجحانات کو متاثر کرتے ہیں، یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ عالمی معیشت اس سال اور اگلے سال ترقی کرتی رہے گی۔ لیکن ترقی کی رفتار کے بارے میں اب بھی غیر یقینی صورتحال ہے۔

کورونا وبا کی طویل بندش کے بعد چین نے حال ہی میں بحالی کا آغاز کیا ہے۔ لیکن بحالی کے لیے درکار مدت ابھی تک واضح نہیں ہے۔ اقتصادی بحالی مہنگائی کے دباؤ کا باعث بن رہی ہے۔ اس سے مرکزی بینک مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح دیگر عوامل بھی مارکیٹ کو متاثر کرتے ہیں۔ اس طرح کے ماحول میں جہاں غیر یقینی کی صورتحال ہو صرف ایک ہی معقول اقدام اٹھایا جا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس معاہدے کو برقرار رکھا جائے جو ہم نے گزشتہ اکتوبر میں کیا تھا اور یہی ہم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں پائیدار مثبت اشاروں کو یقینی بنانا چاہیے۔نوپیک بل کو دوبارہ متعارف کرانے کے حوالے سے شہزادہ عبدالعزیز نے کہا کہ نوپیک بل اور قیمتوں کی حد میں توسیع کے درمیان بڑا فرق ہے لیکن تیل کی منڈی پر ان کے ممکنہ اثرات یکساں ہیں کیونکہ اس طرح کی پالیسیاں نئے خطرات کا اضافہ کرتی ہیں۔

زیادہ ابہام والے وقت میں وضاحت اور استحکام کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ مجھے اپنے اس نقطہ نظر کی تصدیق کرنی چاہیے جو میں نے اگست اور ستمبر میں بیان کیا تھا۔ میں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اس طرح کی پالیسیاں لامحالہ مارکیٹ کے عدم استحکام اور اتار چڑھاؤ کو بڑھا دے گی اور اس کا منفی اثر پڑے گا۔اوپیک پلس نے اپنی پوری کوشش کی ہے اور دیگر اجناس کی منڈیوں کے مقابلے میں تیل کی مارکیٹ میں اعلیٰ استحکام اور شفافیت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔سعودی وزیر توانائی نے مزید کہا کہ نوپیک کے مسودہ قانون میں پیداواری صلاحیت کے ذخائر رکھنے کی اہمیت اور تیل کی منڈی میں یہ ذخائر نہ ہونے کے نتائج کو مدنظر نہیں رکھا گیا ہے۔ نوپیک بل تیل کی پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری کو کمزور کرتا ہے اور اس سے عالمی سطح پر سپلائی میں بھی کمی آئے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button