نیویارک، 22ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)طالبان کے دارالحکومت پر قبضے کے اگلے روز کابل ایئر پورٹ پر ایک ایسا واقعہ پیش آیا تھا جو عمر بھر کے لیے ذہنوں پر نقش ہو کر رہ گیا ہے۔16 اگست کو جب امریکی فوج کے سی 17 کارگو طیارے نے اڑان بھری تو اس پر لٹکے ہوئے تین افراد گر کر ہلاک ہو گئے تھے جن میں سے ایک 24 سالہ ڈاکٹر فدا محمد بھی تھا۔خبر رساں ادارے ایسوی ایٹد پریس کے مطابق امریکی فوج نے اس واقعے کے حوالے سے فی الحال تحقیقات مکمل نہیں کی ہیں ۔
تاہم فوج کا کہنا ہے کہ اس دن سی 17 طیارہ سامان لے کر ایئر پورٹ پر لینڈ کیا تھا کہ لوگوں کے ہجوم نے اسے گھیر لیا۔ طیارے پر حملے کے پیش نظر عملے نے بغیر سامان اتارے اسی لمحے ٹیک آف کا فیصلہ کیا۔ بعد میں منظر عام پر آنے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ سینکڑوں کی تعداد میں افغان شہری ایئر پورٹ کے ٹارمک پر طیارے کے ساتھ ساتھ بھاگ رہے ہیں جبکہ درجنوں کے قریب پہیے والی جگہ پر چھپے ہوئے تھے۔
تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اڑان بھرنے سے پہلے کتنے افراد نے طیارے پر سے چھلانگ لگائی۔ دیگر افغانوں کی طرح فدا محمد بھی جہاز کے پہیے والی جگہ میں چھپا بیٹھا تھا۔فدا محمد کی فیملی نے بتایا کہ گزشتہ سال ہی مرحوم کی انتہائی دھوم دھام سے شادی کی تھی جس پر 13 ہزار ڈالر کا خرچہ آیا تھا۔ فدا کی خواہش تھی کہ وہ اپنے شعبے کے مطابق کابل میں دندان سازی کا کلینک کھولیں۔
ان کا یہ خواب بھی بالآخر حقیقت میں تبدیل ہو گیا تھا۔ لیکن طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد مستقبل کے تمام خواب ماند پڑتے ہوئے دکھائی دیے۔فدا محمد کے والد پائندہ محمد آج تک نہیں سمجھ سکے کہ ان کا بیٹا جہاز کے پہیے پر چڑتے ہوئے کیا سوچ رہا تھا۔
ان کو خدشہ ہے کہ فدا محمد اتنا بڑا خطرہ شاید اس لیے مولنے کو تیار تھا کہ وہ اپنی شادی کے لیے لیا گیا قرضہ واپس لوٹانا چاہتا تھا۔ یہی سوچ پائیندہ محمد کو پریشان کرتی ہے کہ شاید اپنے بیٹے کی موت کے قصوروار وہ خود ہیں۔
امریکی ملٹری کا کہنا ہے کہ جب سی 17 کارگو طیارے نے قطر ایئر پورٹ پر لینڈ کیا تو جہاز کے پہیوں سے انسانی اعضا برآمد ہوئے تھے۔ تاہم فی الحال مکمل اندازہ نہیں لگایا جا سکا کہ اس اندوہناک حادثے نے کتنے لوگوں کی جانیں لیں۔
طیارے سے گرنے والے تین افراد کے علاوہ ایک اور نوجوان کھلاڑی بھی کابل ایئر پورٹ پر اسی سترہ کے پہیے کے نیچے آ کر ہلاک ہو گیا تھا۔ امریکہ اور اتحادی ممالک کے افغانستان سے انخلا کا عمل مکمل ہونے تک ایئر پورٹ پر بدنظمی، افراتفری اور ناامیدی کے مناظر سامنے آتے رہے۔



