بین الاقوامی خبریں

مغربی جرمنی میں ریسکیو کا کام جاری جنوبی ریاست باویریا اور پڑوسی ممالک میں ہائی الرٹ

برلن، 18جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)متاثرہ صوبوں رائن لینڈ پلاٹینیٹ اورنارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں پانی کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اب خدشات #جرمنی کے جنوبی صوبے باویریا کی طرف بڑھ رہے ہیں، جہاں کئی تہہ خانے زیرآب آگئے اورکئی ندیاں اور چشمے ابل پڑے ہیں۔مغربی جرمنی میں #سیلاب کی وجہ سے #ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 150 ہو چکی ہے۔

سب سے زیادہ متاثرہ ریاستوں میں سے ایک رائن لینڈ پلاٹینیٹ میں کم از کم 110 افراد اور اس کی پڑوسی ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں 43 افراد موت کے منھ میں چلے گئے۔ سیلاب کی لائی ہوئی تباہی سے نمٹنے اور ریسکیو کے کاموں میں مزید تیزی آ گئی ہے۔ جرمن #فوج کے 850 سے زیادہ فوجی امدادی سرگرمیوں میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔آج بروز اتوار جرمن چانسلر انگیلا میرکل سیلاب سے تباہ حال علاقوں کا دورہ کریں گی۔

#میرکل اپنے دورے کے دوران خود سیلاب کی تباہیوں اور نقصانات کا اندازہ لگائیں گی اور اس قدرتی آفت کی زد میں آکر ہلاک ہونے والوں کے پسماندگان سے ملاقاتیں کریں گی۔ جرمنی اور اس کے کئی پڑوسی ممالک اس سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہوئے ہیں اور مغربی یورپ میں شدید بارش کے بعد کم از کم 183 افراد ہلاک ہوگئے اور درجنوں ہنوز لاپتہ ہیں۔

میرکل خاص طور سے مغربی صوبے رائن لینڈ پلاٹینیٹ کی آر وائیلر ویلی کے ایک گاؤں شلڈ کا دورہ کر رہی ہیں۔ یہ علاقہ نارتھ رائن ویسٹ فیلیا اور صوبے رائن لینڈ پلاٹینیٹ کی سرحد پر واقع ہے۔سیلابی ریلے گلی کوچوں میں ملبہ چھوڑ گئے ہیں اور اب اس ملبے کی صفائی اور علاقے کی تعمیر ایک بڑا مرحلہ ہے۔ اتوار کو تازہ ترین بیان میں پولیس نے کہا کہ ہماری زندہ یادوں میں یہ سیلاب کا #بدترین واقعہ تھا جس میں بدھ سے لے کر اب تک کم از کم 156 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

پولیس کے مطابق فقط صوبے رائن لینڈ پلاٹینیٹ میں 110 ہلاکتیں ہوئیں ہیں اور 670 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ادھر پڑوسی ملک بلجیم میں بھی حالیہ سیلاب نے کم از کم 27 افراد کی جان لی ہے۔ دونوں ممالک میں متاثرہ علاقوں میں ریسکیو عملہ ملبے تلے دبے افراد کا کھوج لگانے اور ان کی جان بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔گزشتہ چند روز کے اندر اندر متعدد مغربی یورپی ممالک کو سیلابی آفت سے دوچار کرنے والی بارشوں کو مغربی یورپ کی تاریخی بارشیں کہا جا رہا ہے۔

اس بار کی بارشوں نے لکسمبرگ، #نیدر لینڈ یا #ہالینڈ اور #سوئٹزرلینڈ کو بھی پوری طرح اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ اب جبکہ رائن لینڈ پلاٹینیٹ اور نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں پانی کم ہونا شروع ہو گیا ہے، اب خدشات جرمنی کے جنوبی صوبے باویریا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔بالائی باویریا کے علاقے میں ہفتے کی شام دیر گئے موسلا دھار بارش کے سبب کئی تہ خانے زیر آب آگئے اور کئی ندیاں اْبل پڑیں۔ جنوب مشرقی باویریا کے ایک علاقے بیئرشٹس گارڈنر میں ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

اس بارے میں باویریا کے اس ضلع کی ایک ترجمان نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا۔ادھر آسٹریا کے حکام نے زالسبرگ اور ٹیرول جیسے انتہائی مقبول سیاحتی علاقوں میں سیلاب کا انتباہی اعلان کرتے ہوئے ان علاقوں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔

آسٹریا کے چانسلر سباستیان کْرس نے ایک ٹویٹ میں لکھاکہ بدقسمتی سے تیز بارشوں اور طوفان نے آسٹریا کے متعدد مقامات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے سیلاب کو ایک المیہ قرار دیا ہے۔ میرکل نے متاثرہ علاقوں کی میونسپلٹیز کو وفاقی حکومت کی طرف سے مکمل حمایت اور تعاون کا یقین دلایا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button