گرمی کے موسم میں برصغیر کے بیشتر علاقوں میں ستو کا استعمال صدیوں سے کیا جاتا رہا ہے۔ یہ ایک قدرتی اور غذائیت سے بھرپور غذا ہے جو جسم کو فوری توانائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف طبی فوائد بھی رکھتی ہے۔ ستو عام طور پر بھنے ہوئے چنے، جو، مکئی یا باجرے سے تیار کیا جاتا ہے، تاہم بھنے چنے کا ستو سب سے زیادہ مقبول سمجھا جاتا ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق ستو پروٹین، فائبر، آئرن، میگنیشیم، پوٹاشیم اور دیگر ضروری معدنیات سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جسم کو طاقت دینے کے ساتھ نظامِ ہاضمہ کو بھی بہتر بناتا ہے۔ ایک کپ چنے کے ستو میں تقریباً 20 گرام پروٹین اور 10 گرام فائبر پایا جاتا ہے جو صحت مند زندگی کیلئے نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے۔
ستو کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ یہ خون میں شکر کی سطح کو تیزی سے نہیں بڑھاتا۔ اس کا گلائی کیمک انڈیکس کم ہوتا ہے، اسی لئے ذیابیطس کے مریض بھی اسے مناسب مقدار میں استعمال کر سکتے ہیں۔ جو افراد شوگر کو قابو میں رکھنے کیلئے متوازن غذا تلاش کرتے ہیں، ان کیلئے ستو ایک بہترین انتخاب بن سکتا ہے۔
پروٹین کی زیادہ مقدار کے باعث ستو پٹھوں کی مضبوطی اور ان کی مرمت میں مدد دیتا ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جو سبزی خور غذا استعمال کرتے ہیں، وہ اپنی پروٹین کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ستو کو روزمرہ غذا میں شامل کر سکتے ہیں۔ اس میں موجود غذائی ریشے آنتوں کی حرکت کو بہتر بناتے ہیں، قبض سے نجات دلاتے ہیں اور نظامِ ہاضمہ کو متوازن رکھتے ہیں۔
ستو میں شامل آئرن جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن پہنچانے میں مدد دیتا ہے جبکہ میگنیشیم اور پوٹاشیم اعصاب اور پٹھوں کی کارکردگی کو بہتر رکھتے ہیں۔ یہ معدنیات جسم میں الیکٹرولائٹ کا توازن برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں، خاص طور پر گرمی کے موسم میں جب جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ستو میں قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس بھی پائے جاتے ہیں جو جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط رکھتے ہیں۔ اس کے استعمال سے انفیکشنز کے امکانات کم ہوتے ہیں اور مجموعی صحت بہتر رہتی ہے۔ ستو کا شربت جسم میں پانی کی کمی پوری کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے جلد تروتازہ اور شاداب رہتی ہے، جبکہ بالوں کی جڑیں بھی مضبوط ہوتی ہیں۔
دل کی صحت کیلئے بھی ستو مفید مانا جاتا ہے۔ اس میں موجود حل پذیر فائبر اور پروٹین کولیسٹرول کی سطح کو متوازن رکھنے اور بلڈ پریشر کو اعتدال میں رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ گرمی کے دنوں میں ستو کا شربت جسم کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے اور لو لگنے کے خطرات کم کرنے میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔
ستو میں کیلشیم اور میگنیشیم کی موجودگی ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے علاوہ چونکہ ستو دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس پیدا کرتا ہے، اس لئے یہ وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کیلئے بھی مفید غذا قرار دیا جاتا ہے۔ ستو کا شربت پینے کے بعد بھوک کم محسوس ہوتی ہے جس سے بسیار خوری سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر ستو کو متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ گرمی کے موسم میں جسم کو توانا، ٹھنڈا اور صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔



