بین الاقوامی خبریں

سعودی عرب نے84 سالہ فلسطینی رہنما ڈاکٹرمحمد الخضری کو رِہا کردیا

ریاض ، 20اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی عرب نے حماس کے نمائندہ کے طور پر تقریبا بیس سال تک ذمہ داریاں نبھانے والے ڈاکٹرمحمد الخضری کو تین سال قید میں رکھنے کے بعد رہا کردیا ہے۔ رہائی کے بعد ان کا فوری اور پہلا پڑاو عمان میں ہو گا۔حماس کے سیاسی شعبے کے اہم رکن محمد الخضری جنہیں بدھ کے روز رہا کیا گیا ہے برسوں سے فلسطین کاز کے لیے سعودی عرب میں فلسطینی نمائندے کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے۔ انہیں سعودی حکام نے 2019 میں گرفتار کر لیا تھا۔ان کے ساتھ ان کے بیٹے ڈاکٹر ہانی الخضری کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ یہ دونوں گرفتاریاں سعودی عرب میں فلسطینیوں اور اردنی باشندوں کی گرفتاری کی ایک مہم کا حصہ تھیں۔

اس مہم کے دوران درجنوں فلسطینی اور اردنی گرفتار کیے گئے تھے۔84 سالہ ڈاکٹر محمد الخضری کو شروع میں سعودی عرب کی ایک عدالت نے 15 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ بعدازاں اس سزا کو کم کر کے چھ سال کر دیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد اس سزا میں سے تین سال کی سزا معطل کر دی گئی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان عمر اور صحت کی بنیاد پر شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو لکھا کہ انہیں رہا کیا جائے۔ اب رہائی کے بعد وہ عمان پہنچیں گے۔

آئرلینڈ کی ایک بڑی یونیورسٹی نے اسرائیل کا بائیکاٹ کردیا

ڈبلن ، 20اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)آئرش ’’تثلیث‘‘ یونیورسٹی نے اسرائیل کو ہتھیار یا سکیورٹی ٹیکنالوجی فروخت کرنے والی کمپنیوں سے اپنی سرمایہ کاری واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔آئرش یونیورسٹی کا یہ اقدام دارالحکومت ڈبلن میں واقع آئرلینڈ کی ٹرنٹی یونیورسٹی میں اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ اور پابندیاں عائد کرنے کی مہم – BDS” کی جانب سے جمع کرائی گئی ایک پٹیشن کے بعد کیا گیا ہے۔بائیکاٹ مہم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے یونیورسٹی کی پٹیشن میں مطالبہ کیا ہے کہ ان کمپنیوں سے وہ اپنی سرمایہ کاری واپس لے جو (اسرائیل) کو ہتھیار یا سکیورٹی ٹیکنالوجی فروخت کرتی ہیں۔

مہم نے اس بات کی تصدیق کی کہ یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسلحہ ساز کمپنیوں لاک ہیڈ مارٹن، ریتھیون ٹیکنالوجیز اور BAE سسٹمز میں مزید سرمایہ کاری نہیں کرے گی۔انہوں نے نشاندہی کی کہ یونیورسٹی نے دو ایکویٹی فنڈز کے سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کی تشکیل نو کی ہے۔ یہ درخواست 446 طلباء کی طرف سے دی گئی تھی۔ پچھلے سال یہ انکشاف ہوا تھا کہ کالج اسلحہ کی صنعت میں 2.5 ملین یورو کی سرمایہ کاری کا مالک ہے۔

تثلیث بی ڈی ایس مہم کے صدر زید برغوثی نے کہا کہ یہ اقدام کالج انتظامیہ اور اس کے ڈین کے ساتھ مل کر کام کرنے کا نقطہ آغاز ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یونیورسٹی کے تمام کالجوں میں نسل پرستی کیخلاف اقدار کا اطلاق کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اسے نسل پرستی کی پالیسیوں کے خلاف جنگ میں ایک نئے مرحلے کے آغاز اور اپنی مہم کے اگلے مرحلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ تثلیث یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹ یونین نے 2018میں ایک ریفرنڈم کا انعقاد کیا جس میں 64 فیصد طلبا نے بائیکاٹ تحریک کی حمایت کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد تثلیث بی ڈی ایس مہم قائم کی گئی۔

امریکہ میں اگلے سال بڑی تعداد میں لوگ بیروزگار ہوجائیں گے: تجزیہ کار

نیویارک، 20اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے بینک آف امریکہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں امریکہ میں ملازمتوں میں اضافے کی رفتار تقریبا نصف رہ جائے گی۔رپورٹ کے مطابق امریکہ کا مرکزی بینک گزشتہ 40 برس میں تیز ترین رفتار سے شرح سود میں اضافہ کرکے مہنگائی روکنے کی کوشش کررہا ہے جس سے ملازمتوں کی مارکیٹ کو بڑھتے دبا کا سامنا ہے۔ ستمبر میں حیرت انگیز طور پر مضبوط نظرآنے والی ملازمتوں کی مارکیٹ اگلے سال تک شاید ہی قائم رہ سکے۔

بینک نے کہا کہ نان فارم ملازمتیں اگلے سال کے شروع میں سکڑ نا شروع ہوجائیں گی اور پہلی سہ ماہی کے دوران اس میں 1 لاکھ 75 ہزار ماہانہ کی کمی ہوسکتی ہے۔ ملازمتوں میں کمی کا یہ سلسلہ 2023 کے بیشتر حصے میں جاری رہے گا۔بینک آف امریکہ میں امریکی معاشیات کے سربراہ مائیکل گیپن نے سی این این کو ٹیلی فون پر انٹرویو میں بتایا کہ وہ مہنگائی کی شرح کم کرنے کے لئے لیبر مارکیٹ کی کچھ کمزوریوں کو قبول کرلیں گے۔گیپن توقع کررہے ہیں کہ اگلے سال بیروزگاری کی شرح 5 یا 5.5 فیصد رہے گی۔گیپن نے کہا کہ ہم اگلے سال کی پہلی ششماہی میں کساد بازاری شروع ہوتے دیکھ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button