بین الاقوامی خبریںسرورق

سکیورٹی کیمرہ، کیا چین کو حساس معلومات تک رسائی حاصل ہے؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ ان میں سے زیادہ تر کیمرہ چینی کمپنیوں کے ہوتے ہیں؟

نیویارک ،3اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)ہوائی اڈہ ہو یا ٹرین اسٹیشن اب نگرانی کرنے والے کیمرے ہر جگہ نصب ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان میں سے زیادہ تر کیمرہ چینی کمپنیوں کے ہوتے ہیں؟ اور چین کو ان سے حاصل ہونے والے ڈیٹا تک رسائی حاصل ہے۔کیا آپ کے گھر میں سکیورٹی کیمرہ ہے؟ اگر ایسا ہے تو بہت امکان ہے کہ اسے ہیک وژن یا داہوا نامی کسی چینی کمپنی نے بنایا ہوگا۔ نگرانی کے کیمروں کی مارکیٹ پر ان کمپنیوں کی اجارہ داری ہے۔ اس مارکیٹ پر تحقیق کرنے والے ایک ادارے آی ڈی سی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں ان دونوں کمپنیوں نے تقریباً 35 بلین ڈالر مالیت کی عالمی مارکیٹ کا ایک تہائی حصہ بنایا تھا۔جہاں ہوواؤے جیسی چینی کمپنیوں کو یورپی ممالک میں سکیورٹی کے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے وہیں ان دونوں نگرانی کرنے والی کمپنیوں پر نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے۔ اب عالم یہ ہے کہ اس وقت ان کے آلات پوری دنیا میں ہوائی اڈوں، ٹرین اسٹیشنز اور یہاں تک کہ سرکاری عمارتوں پر بھی نظر نصب ہیں۔

دنیا بھر میں کئی لوگ اس بات سے نا خوش نظر آتے ہیں۔ چینی حکومت کے پاس ان دونوں کمپنیوں کی جزوی ملکیت موجود ہے اور اہم انفراسٹرکچر میں ان کی موجودگی ممکنہ جاسوسی کے بارے میں خدشات کا باعث بن رہی ہے۔ ناقدین اس بات سے خبردار کر رہے ہیں کہ ان کے سسٹمز میں جاسوسی کے عوامل کار فرماں ہو سکتے ہیں اور ان کے ذریعے بیجنگ حکومت خفیہ طور پر حساس ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔ایسی حفاظتی خلاف ورزیوں کا پتہ لگانا مشکل ہے۔ لیکن بیجنگ کے پاس ڈیٹا تک زیادہ واضح رسائی ہے جس میں وہ ممکنہ طور پر دلچسپی رکھتا ہے۔برلن کے مرکاٹر انسٹی ٹیوٹ فار چائنا سٹڈیز کی محقق انتونیا ہمیدی کہتی ہیں، اگر ہم چینی قوانین کو دیکھیں تو یہ بہت واضح ہیں۔ ہر چینی کمپنی پر حکومت کے ساتھ تعاون کرنا اور ڈیٹا شیئر کرنا لازم ہے۔ اس میں وہ ڈیٹا بھی شامل ہوتا ہے جو پی آر سی میں محفوظ ہوتا ہے اور بیرون ممالک سے جمع کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button