یروشلم ہوائی اڈے کے قریب یہودی بستی کی تعمیر کا اسرائیلی منصوبہ
اسرائیلی فوج کی غزہ میں فلسطینی ماہی گیروں پر فائرنگ
مقبوضہ بیت المقدس ،6فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) عبرانی ویب سائٹ واللا نے انکشاف کیا ہے کہ حکمران لیکوڈ پارٹی کی قیادت میں حکومتی اتحاد مذہبی صیہونیت کی جماعتوں کے ساتھ سنہ 1967 سے خالی یروشلم ہوائی اڈے کے علاقے میں آبادکاری کے منصوبوں کی تعمیر کی طرف زور دے رہا ہے۔ جس کا بنیادی مقصدفلسطینی علاقوں کا باہمی رابطہ منقطع کرنا ہے۔سائٹ نے کہا کہ لیکوڈ اور مذہبی صیہونی جماعتوں کے نمائندوں سمیت کنیسٹ کے اراکین کا ایک وفد آج مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع عطروت بستی میں پہنچا، تاکہ علاقے میں آباد کاری کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے امکان کو آگے بڑھایا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اس ہفتے کے دوران اس منصوبے پر بات کرنے کے لیے ایک میٹنگ کریں گے۔آباد کاری کا منصوبہ جو قلندیا کیمپ سے لے کر مقبوضہ شہر کے شمال میں واقع قصبے الرام تک پھیلے گا کو اسرائیلی منصوبہ سازوں نے فلسطینی قصبوں کے روابط کو منقطع کرنے میں کردار ادا کرنا سمجھا ہے۔ قابض میونسپلٹی کا خیال ہے کہ اس کا علاقہ 1,265 دونم پے اور توقع ہے کہ اس میں 9,000 سیٹلمنٹ یونٹ تعمیر کیے جائیں گے۔ایک دہائی قبل قابض ریاست نے اس وقت خطے میں آباد کاری کے منصوبے کو منجمد کر دیا تھا امریکی صدر باراک اوباما نے اسرائیلی ریاست پر منصوبے پر کام روکنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
2020 میں قابض انتظامیہ نے اس منصوبے کو آگے بڑھانے کی سفارش کی تھی جسے حکومتی اتحاد کے ارکان نے اس منصوبے کو’گیوات ھشیوا‘ کا نام دینے کی تجویز دی ہے۔ گذشتہ ماہ نبی یعقوب بستی میں شہید خیری علقم کے کمانڈو آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں یہ نام دیا گیا ہے۔اس علاقے میں تعمیرات کو فروغ دینے والے قابض رہ نماوں کا خیال ہے کہ اس میں بستی کے محلے کی بجائے فلسطینی محلے کی تعمیر سے بیت المقدس، رام اور یروشلم کے دیہاتوں کے درمیان رابطہ قائم ہو سکتا ہے جس سے قابض ریاست کو سیاسی طور پر نقصان ہو سکتا ہے۔یروشلم ہوائی اڈہ یا (قلندیہ ہوائی اڈہ) سنہ 1924میں کھولا گیا اور اردنی انتظامیہ کے دور میں سنہ 1967تک کام کرتا رہا۔ اس جنگ میں قابض ریاست نے ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا اور اس کے اسرائیل سے الحاق کا اعلان کر دیا تھا۔
اسرائیلی فوج کی غزہ میں فلسطینی ماہی گیروں پر فائرنگ
غزہ ،6فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کل اتوار کی شام قابض اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی پٹی میں سمندری حدود میں ماہی گیری کرنے والے فلسطینی ماہی گیروں پر حملہ کیا۔ذرائع نے بتایا کہ قابض فوج نے ماہی گیروں پر مشین گن سے حملہ کیا اور اس کے علاوہ آنسوگیس کی شیلنگ کی۔ایک مقامی ذریعے نے بتایا کہ قابض فوج کی کشتیوں نے جنوب میں خان یونس اور رفح میں سمندر میں چلنے والی ماہی گیروں کی کشتیوں کی طرف فائرنگ، گیس اور لائٹنگ بم برسائے اور ماہی گیروں کو زبردستی سمندر چھوڑنے پر مجبور کیا۔قابض فوج نے سوموار کے روز غزہ کی پٹی میں رفح کے مشرق میں فلسطینی کسانوں پر بھی فائرنگ کی۔ادھر اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے علاقوں پر نچلی پروازیں جاری رکھیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ قابض فوج کی کشتیاں روزانہ کی بنیاد پر ماہی گیروں پر جان بوجھ کر گولیاں چلاتی ہیں،گیس پھینکتی ہیں اور انہیں امن و امان کے ساتھ روزی روٹی سے محروم کر دیتی ہیں۔



