بین الاقوامی خبریں

اسپین : عام انتخابات جنگلی بھیڑیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے

اسپین میں 23 جولائی کے عام انتخابات آئبیرین نسل کے جنگلی بھیڑیوں کی بقا کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتے ہیں

میڈرڈ ، 10جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسپین میں 23 جولائی کے عام انتخابات آئبیرین نسل کے جنگلی بھیڑیوں کی بقا کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتے ہیں۔ہسپانوی پیپلز پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقتدار میں آ کر ان بھیڑیوں کے شکار کی دوبارہ اجازت دے دے گی۔جزیرہ نما آئبیریا کے ملک اسپین میں رواں ماہ ہونے والے قومی الیکشن کے حوالے سے پیپلز پارٹی نے اپنا انتخابی منشور رواں ہفتے ہی جاری کیا، جو ماحول اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے سرگرم کارکنوں کے لیے حیران کن ثابت ہوا۔اسپین میں پیپلز پارٹی اپوزیشن کی مرکزی جماعت ہے، جو حال ہی میں انتہائی دائیں باز وکی پارٹی ووکس کی ہم خیال بھی بن گئی۔ ان دونوں جماعتوں نے ملک کے دیہی علاقوں کے ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے اب یہ عہد کیا ہے کہ وہ انتخابی کامیابی اور آئندہ حکومت سازی کی صورت میں ممکنہ معدومیت کا سامنا کرنے والے آئبیرین بھیڑیوں کے شکار کی دوبارہ اجازت دے دے گی۔

آئبیرین جنگلی بھیڑیوں کی نسل کو اسپین میں قانونی تحفظ حاصل ہے۔ دریائے دُورو سے شمال کی طرف کے علاقوں میں ان بھیڑیوں کے شکار کی 2021ء تک اجازت تھی۔ پھر حکومت نے ان جنگلی جانوروں کے شکار پر ملک گیر پابندی لگا دی تھی تاکہ ختم ہو جانے کے خطرے سے دوچار ان جانوروں کی بقا کو یقینی بنایا جا سکے۔پیپلز پارٹی نے اپنے منشور میں ان بھیڑیوں کے شکار کی دوبارہ اجازت دینے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نوع کی جنگلی حیات کے شکار کی ہمارے معاشرے کے بہت بڑے حصے کی ثقافتی میراث کے طور پر جڑیں بہت گہری ہیں۔

اس پارٹی نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ ان بھیڑیوں کے شکار کی دوبارہ اجازت دیتے ہوئے اس عمل کو متوازن بنانے کے لیے اقدامات بھی کرے گی۔ لیکن کس طرح کے اقدامات، اس بارے میں انتخابی منشور میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔اسپین کے وسیع و عریض دیہی علاقوں میں بہت سے کسانوں کو شکایت ہے کہ حکومت نے دو سال قبل ایسے بھیڑیوں کے شکار پر مکمل پابندی تو لگا دی تھی، لیکن اس کے بعد سے ان کے پالتو جانوروں اور مویشیوں پر ان بھیڑیوں کے حملے بہت زیادہ ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ ایسے بھیڑیوں کا شکار ہسپانوی دیہی علاقوں میں مدتوں ایک روایتی مصروفیت بھی رہی ہے۔انتخابی منشور میں آئبیرین بھیڑیوں کی بقا کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دینے والی جماعتوں پیپلز پارٹی اور ووکس نے جس امر کا اعتراف نہیں کیا، وہ اس منشور کی سیاسی نفسیاتی وجہ ہے۔اسپین میں اس وقت سوشلسٹوں کی حکومت ہے۔ روایتی طور پر دیہی علاقوں میں زیادہ تر حمایت سوشلسٹوں کو حاصل رہی ہے یا پھر پیپلز پارٹی کو۔ اب پیپلز پارٹی اور ووکس کی پوری کوشش ہے کہ دیہی ووٹر انہیں ہی ووٹ دیں اور اسی لیے جنگلی بھیڑیوں کے دوبارہ شکار کا لالچ دیتے ہوئے دیہی اور نیم دیہی خطوں کے رائے دہندگان کے دل جیتنے کی کوشش کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button