کولمبو ،4اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سری لنکا میں معاشی بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے، جس کے خلاف مظاہروں کے سبب کابینہ کے تمام وزیر مستعفی ہو گئے۔ تاہم صدر ابھی تک اپنے عہدے پر برقرار ہیں، جن کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔سری لنکا میں اتوار کی رات کو ہونے والی ایک اہم میٹنگ کے بعد کابینہ کے تمام وزرا نے اجتماعی طور پر اپنے استعفے پیش کر دیے اور اب چار اپریل یعنی پیر کے روز حکومت نئی کابینہ کی تقرر کرنے والی ہے۔
وزیر تعلیم دنیش گناوردینا نے کہا کہ تمام وزرا نے اپنے استعفے سونپ دیے ہیں تاکہ صدر ایک نئی کابینہ تشکیل دے سکیں۔یہ استعفے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب اتوار کے روز ہزاروں افراد ملک گیر کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باہر سڑکوں پر نکل آئے اور معاشی بحران سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔
وزیر خزانہ باسل راجا پکسے، وزیر زراعت چمل راجا پکسے اور وزیر کھیل نمل راجا پکسے سمیت کابینہ کے تمام 26 وزر اء نے استعفیٰ دے دیا ہے، تاہم صدر گوٹابایا راجا پکسے اور ان کے بھائی وزیر اعظم مہندا راجا پکسے Mahinda Rajapaksa اب بھی اپنے عہدوں پر برقرار ہیں۔حکومت نے احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے ملک گیر کرفیو نافذ کر رکھا ہے تاہم اتوار کے روز ملکی صدر کی برطرفی کا مطالبہ کرنے کے لیے حزب اختلاف کے ارکان پارلیمان سمیت ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے۔
صدر گوٹابایا راجا پکسے پر معاشی بدانتظامی کا الزام ہے جس کے سبب سری لنکا کے عام شہریوں کو مہینوں سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔آسمان چھوتی افراط زر کی شرحیں اور اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اس جنوب ایشیائی ملک میں فی الوقت بہت سے لوگوں کو اپنی بنیادی ضروریات پورا کرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔
غیر ملکی کرنسی کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے ایندھن کی بھی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور لوگ دن میں کئی گھنٹے بجلی کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔



