لندن،24ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کھجور کے درختوں، ریتیلے ساحل اور صاف پانی والے اس ریزارٹ میں موجود مہمانوں کو اب واپس نہیں دھکیلا جائے گا۔ یہ وہ افغان ہیں جو اپنے ملک سے فرار ہو کر البانیہ پہنچے ہیں۔ یہ پناہ گزین صدمے کی کیفیت میں ہیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق خواتین کے حقوق کی کارکن 25 سالہ لطیفہ فروتن جو طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد وہاں سے فرار ہوئیں، انہوں نے شینگین کے شمالی ریزارٹ سے اے ایف پی کو بتایا کہ میں جسمانی طور پر یہاں ہوں لیکن میرا دل افغانستان میں میری والدہ اور میرے بھائی کے سامنے ہے۔
البانیہ نے عارضی طور پر چار ہزار افغانوں کو پناہ دینے کا وعدہ کیا تھا اور اب تک وہاں لگ بھگ 700 کے قریب افغان شہری رہائش پذیر ہیں جن میں سے بیش تر خواتین اور بچے ہیں۔وہ تالاب کے ارد گرد نصب کرسیوں پر بے چین بیٹھے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں فون ہیں۔ وہ افغانستان میں رہ جانے والے اپنے پیاروں سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
البانیہ کی وزیراعظم ایدی راما نے کہا کہ یہ لوگ دہشت گردی سے بھاگ کر یہاں پہنچے ہیں۔ یہ صدمے کا شکار ہیں اور انہیں کیمپوں میں ڈال دینا غیر انسانی ہو گا۔کچھ مغربی یورپی ممالک کے برعکس البانیہ کی حکومت کا افغان شہریوں کی مدد کرنے کا فیصلہ وہاں کے لوگوں میں مقبول ہوا ہے اور کسی بھی سیاسی جماعت نے وہاں کی حکومت کے اس اقدام سے اختلاف نہیں کیا ہے۔
یہ بلقان کا چھوٹا سا ملک (البانیہ) ہے جو یورپ کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے لیکن یہ اپنے’لینڈآف ویلکم‘ ہونے پر فخر کرتا ہے۔سنہ 1990 کی دہائی کے آخر میں اسی ملک نے کوسوو پناہ گزینوں کو سربیا کے صدر سلوبوڈان میلوسیوک کی حکومت سے پناہ دی تھی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد البانیہ کی یہودی آبادی تنازع سے پہلے کی نسبت زیادہ ہو گئی تھی۔لیکن یہی البانیہ خود بھی ہجرت کی سرزمین ہے۔
1990 کی دہائی سے اب تک اس کے 10 لاکھ سے زائد شہری ملک چھوڑ چکے ہیں، ان میں سے بیش تر مغربی ممالک میں بہتر زندگی کے متلاشی ہیں۔



