
شام کے کیمپ: بچوں کو نکال لاؤ لیکن ماؤں کو چھوڑ دو آخر ایسا کیوں؟
اب یہ معاملہ متنازعہ بن گیا ہے کہ کیا ان بچوں کو ماؤں سے الگ کیا جانا درست عمل ہوگا؟
لندن، 26 دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) جیسے جیسے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی صفوں میں شامل ہونے والے غیر ملکی خاندانوں کے لیے شامی کیمپ زیادہ خطرناک ہوتے جا رہے ہیں، ویسے ویسے ان گھرانوں کے بچوں کو وہاں سے نکالنے کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔شامی کیمپوں میں موجود ‘اسلامک اسٹیٹ‘ کے غیر ملکی جہادی خاندانوں کے بچوں کو وہاں سے جلد از جلد نکالنے کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔ شام میں قائم ان کیمپوں میں جو خاندان آباد ہیں ان کے لیے خطرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہا جا رہا ہے اگر ان کیمپوں میں رہنے والے بچوں کی مائیں وہیں رہنا چاہیں تب بھی ان کے بچوں کو وہاں سے نکال لیا جائے۔
اب یہ معاملہ متنازعہ بن گیا ہے کہ کیا ان بچوں کو ماؤں سے الگ کیا جانا درست عمل ہوگا؟رواں برس مئی میں ایک آٹھ سالہ لڑکا گندے نالے میں گر کر ہلاک ہو گیا۔ اسی سال نومبر میں دو لڑکیوں کی سربریدہ نعشیں گٹر میں سے برآمد ہوئیں۔
ان میں سے ایک کی عمر 12 اور دوسری کی 15 سال تھی۔ مبینہ طور پر ان کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور بعد ازاں ان کے سر قلم کر دیے گئے۔ انتہا پسندی کے رجحان پر تحقیق کرنے والے ایک ماہر نے بتایا کہ شام کے الہلول کیمپ میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو کتے اور بلیوں کے سر کاٹنے کی تربیت دی جاتی رہی ہے۔ یہ دولت اسلامیہ یا داعش میں ان بچوں کی بھرتی کے لیے تربیتی مشق تھی۔شمال مشرقی شام میں واقع الہول کیمپ جسے اکثردنیا کا سب سے خطرناک کیمپ کہا جاتا ہے، 53 ہزار سے زیادہ افراد کا مسکن ہے۔
اگرچہ اس کیمپ کے تمام رہائشی اسلامک اسٹیٹ کی حمایت نہیں کرتے ہیں، لیکن یہ آئی ایس گروپ کی طرف سے اْس وقت یہاں پہنچے تھے جب اس سفاک انتہا پسند گروپ کو اس کے عراق اور شام کے مضبوط گڑھوں میں شکست دی جا رہی تھی۔الہول کے کیمپ میں مقیم زیادہ تر افراد کا تعلق عراق یا شام سے ہے،تاہم اس کیمپ میں قریب دس سے گیارہ ہزار افراد ایسے ہیں جن کا تعلق امریکہ، کینیڈا، اور یورپی ممالک سے۔
الہول کیمپ کی آبادی کی اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے۔ امدادی تنظیموں کے اندازوں کے مطابق کیمپ کی آبادی کا 60 تا 64 فیصد بچوں پر مشتمل ہے جو زیادہ تر 12 سال سے کم عمر کے ہیں۔الہول کیمپ میں گنجائش سے کہیں زیادہ انسان رہ رہے ہیں اور انہیں طبی دیکھ بھال کی کمی، روزمرہ کی ضروری اشیاء کی قلت اور تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کے برابر جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ الہول کیمپ کے بچوں کی یہ ناگفتہ بہ صورتحال پہلے ہی تھی کہ گزشتہ سال یعنی 2021 ء کے دوران قتل اور پر تشدد واقعات نے ان بچوں کے ذہن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ یہاں محض اس ایک سال میں 126 افراد قتل ہوئے اور 41 بار قتل کی کوششیں ریکارڈ کی گئیں۔ اس طرح یہ سال اس کیمپ کا سب سے پر تشدد سال قرار پایا۔
خوفناک امر یہ کہ امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ رواں سال پچھلے برس سے بھی بد تر رہا۔ مزید یہ کہ پڑوسی ملک ترکی کی طرف سے اس علاقے پر فضائی حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ اس علاقے کے کیمپوں کی حفاظت کرد باشندے کرتے ہیں جنہیں ترکی اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے نومبر کی ایک رپورٹ میں بتایا کہ 30 سے زائد ممالک،جن میں کئی یورپی ممالک بھی شامل ہیں، نے اپنے شہریوں کو الہول سے واپس بلایا ہے، اور مجموعی طور پر تقریباً 1500 بچوں کو وطن واپس لایا گیا ہے۔ ان ممالک کی حکومتوں نے چند خواتین کو وطن واپسی کی پیشکش کی تو انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔



