
مالک کی اجازت کے بغیر سب لیز غیر قانونی قرار، ڈی جی پی کو کارروائی کا حکم-تلنگانہ ہائی کورٹ
تلنگانہ ہائی کورٹ نے مالک کی اجازت کے بغیر سب لیز کو غیر قانونی قرار دیا
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ مالک مکان کی تحریری اجازت اور رضامندی کے بغیر کسی بھی کرایہ دار کو جائیداد سب لیز (Sublease) پر دینے کا قانونی اختیار حاصل نہیں ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسی سب لیز قانون کی نظر میں غیر قانونی اور ناقابل قبول ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو ہدایت دی کہ وہ جائیداد کے مالک کی شکایت پر مناسب جانچ کرکے تین ماہ کے اندر ضروری کارروائی کریں۔
یہ فیصلہ جسٹس ای وی وینو گوپال نے جائیداد کے مالک تیروملا لکشمن آچاریولو کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے بعد سنایا۔
درخواست گزار کے مطابق انہوں نے اپنی گراؤنڈ پلس دو منزلہ عمارت، جو ای سی نگر، چرلاپلی، ضلع میڑچل-ملکاجگری میں واقع ہے، چرلاپلی نوٹیفائیڈ میونسپل انڈسٹریل ایریا سروسز سوسائٹی کو 11 ماہ کے لیے ماہانہ 36 ہزار روپے کرایہ پر دی تھی۔
درخواست میں کہا گیا کہ سوسائٹی نے مالک کی اجازت یا تحریری رضامندی حاصل کیے بغیر اسی عمارت کو پولیس کے حوالے کر دیا، جہاں بعد میں پولیس اسٹیشن قائم کر دیا گیا۔ مالک نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے نہ تو سب لیز کی اجازت دی تھی اور نہ ہی عمارت کو پولیس اسٹیشن کے طور پر استعمال کرنے کی منظوری دی تھی۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ کرایہ اور بجلی کے بل کی ادائیگی بھی وقت پر نہیں کی گئی، جبکہ عمارت میں پولیس کے قبضے کی وجہ سے وہ قانونی طور پر بے دخلی کی کارروائی بھی نہیں کر پا رہے تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے 27 فروری کو ڈی جی پی کو شکایت بھی پیش کی، تاہم کوئی کارروائی نہ ہونے پر ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
سماعت کے دوران ریاستی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ تمام بقایا کرایہ مارچ میں ادا کر دیا گیا ہے۔عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار ہی جائیداد کا قانونی مالک ہے اور فریقین کے درمیان ہونے والا 11 ماہ کا لیز معاہدہ پہلے ہی ختم ہو چکا ہے۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مالک کی اجازت کے بغیر سوسائٹی کی جانب سے جائیداد کو سب لیز پر دینا قانون کے خلاف ہے۔ عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ چرلاپلی کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (SHO) نے قانونی ملکیت کی تصدیق کیے بغیر مذکورہ عمارت میں پولیس اسٹیشن قائم کیا، جو غیر مجاز اور غیر قانونی اقدام ہے۔
عدالت نے ڈی جی پی کو ہدایت دی کہ درخواست گزار کی شکایت پر مناسب انکوائری کرکے تین ماہ کے اندر ضروری کارروائی کی جائے۔ اس حکم کے ساتھ ہی رٹ درخواست نمٹا دی گئی۔



