تلنگانہ کی خبریںسرورق

تلنگانہ SIR 2026: چیف الیکٹورل آفیسر سی سدرشن ریڈی بھی ووٹر لسٹ کی بے ضابطگیوں کی زد میں، دستاویزات جمع کرانے ہوں گے

2002 اور موجودہ ووٹر فہرست میں نام کے فرق پر خود سی ای او کو نوٹس ملنے کا امکان؛ ایک کروڑ سے زائد ووٹرز بھی SIR جانچ کی زد میں آسکتے ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) 2026 کے دوران ایک حیران کن صورتحال سامنے آئی ہے۔ ریاست کی ووٹر فہرست میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنے والے خود چیف الیکٹورل آفیسر (CEO) سی سدرشن ریڈی کا نام بھی "انامولی” (بے ضابطگی) کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں بھی دیگر ووٹرز کی طرح نوٹس موصول ہوگی اور اپنے ریکارڈ کی تصدیق کے لیے مطلوبہ دستاویزات جمع کرانی ہوں گی۔

ایک انٹرویو میں سی سدرشن ریڈی نے بتایا کہ 2002 کی ووٹر فہرست اور 2025 کی موجودہ الیکٹورل رول میں ان کے نام کے اندراج میں فرق پایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2002 کی فہرست میں ان کا نام صرف "سی سدرشن ریڈی” درج تھا، جبکہ بعد میں انہوں نے اپنے ووٹر شناختی کارڈ میں ابتدائی حرف "سی” کے بجائے مکمل نام درج کروا لیا۔ اسی فرق کی وجہ سے کمپیوٹرائزڈ میاپنگ کے دوران ان کا نام بھی بے ضابطگیوں کی فہرست میں شامل ہوگیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کے قواعد سب پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں، اس لیے انہیں بھی نوٹس کا جواب دیتے ہوئے متعلقہ دستاویزات جمع کرانی ہوں گی تاکہ ان کا ریکارڈ درست کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی عمل ریاست کے تمام ووٹرز پر بھی لاگو ہوگا جن کے ریکارڈ میں کسی بھی قسم کا تضاد پایا جائے گا۔

سی سدرشن ریڈی نے بتایا کہ SIR مہم کے دوران کئی اقسام کی بے ضابطگیاں سامنے آرہی ہیں۔ ان میں والدین اور بچوں کی عمر میں 15 سال سے کم فرق، ایک ہی خاندان کے دو بچوں کے درمیان 9 ماہ سے کم عمر کا فرق، دادا، دادی اور پوتے کے درمیان 40 سال سے زائد عمر کا غیر معمولی فرق، صرف آدھار کارڈ پر انحصار کرنے والے ووٹرز، مطلوبہ دستاویزات کی عدم دستیابی، 2002 کی SIR اور موجودہ ووٹر فہرست کے درمیان ناموں میں فرق، اور پہلے والدہ کے نام سے جبکہ اب والد کے نام سے میاپنگ جیسے معاملات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض ووٹرز کے ریکارڈ میں ناموں کے ہجے تبدیل ہونے، ابتدائی حروف یا مکمل نام درج ہونے، اور خاندانی تفصیلات میں معمولی فرق بھی سسٹم میں "انامولی” کے طور پر ظاہر ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے ایسے ووٹرز کو بھی اپنی شناخت اور دستاویزات کی تصدیق کرانی ہوگی۔

چیف الیکٹورل آفیسر نے ایسے ووٹرز کو، جن کا پتہ تبدیل ہوچکا ہے، مشورہ دیا کہ وہ پریشان ہونے کے بجائے اپنے سابقہ رہائشی علاقے کے BLO سے رابطہ کریں، وہاں سے SIR فارم حاصل کریں اور میاپنگ مکمل کرنے کے بعد اگر پتہ یا اسمبلی حلقہ تبدیل کرنا ہو تو فارم 8 بھی جمع کرائیں تاکہ ان کا نام نئی ووٹر فہرست میں درست طور پر شامل ہوسکے۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی جانچ کے مطابق تلنگانہ میں ایک کروڑ سے زائد ووٹرز ایسے ہوسکتے ہیں جن کے نام کسی نہ کسی قسم کی بے ضابطگی کی وجہ سے انامولی لسٹ میں شامل ہوں۔ ایسے تمام ووٹرز کو نوٹس موصول ہونے کے بعد مقررہ مدت کے اندر دستاویزات جمع کراکر اپنے ریکارڈ کی تصدیق کرانی ہوگی، بصورت دیگر ان کے ناموں کے بارے میں مزید کارروائی کی جاسکتی ہے۔

سی سدرشن ریڈی نے کہا کہ ان کی اپنی مثال اس بات کا ثبوت ہے کہ SIR عمل میں کسی کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جا رہا اور اگر خود چیف الیکٹورل آفیسر کو بھی دستاویزات جمع کرانی پڑ رہی ہیں تو عام ووٹرز کو بھی گھبرانے کے بجائے مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنے ریکارڈ کی تصدیق کرانی چاہیے تاکہ ووٹر فہرست کو زیادہ شفاف اور درست بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button