نیویارک،۸؍جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر نیلسن منڈیلا کو جس جیل میں قید رکھا گیا تھا، اس کی چابی نیلام کی جانا تھی۔ تاہم جنوبی افریقی حکومت نے اس نیلامی پر سخت اعتراض کیا تھا۔نیلامی کے عمل سے وابستہ حکام نے اعلان کیا ہے کہ منڈیلا کی جیل کی چابی کی امریکہ میں نیلامی فی الوقت مؤخر کر دی گئی ہے۔
نیلسن منڈیلا نے نسل پرستی کے خلاف مہم کے دوران اپنی زندگی کے جو 27 برس جیل میں گزارے تھے، ان میں سے 18 برس روبن آئی لینڈ کی اسی جیل میں کاٹے گئے تھے، جس کی چابی 28 جنوری کو نیلام کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ متعلقہ امریکی نیلام گھر گرنسیز نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ جنوبی افریقہ کی ’ہیریٹیج ریسورس ایجنسی‘ جب تک اس امر کا از سر نو جائزہ نہیں لے لیتی، تب تک کے لیے نیلامی کا عمل ملتوی کر دیا گیا ہے۔
گرنسیز نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس سرکاری ایجنسی نے یہ نیلامی روکنے کا مطالبہ اس لیے نہیں کیا کہ اس کی نظر میں کچھ چوری ہو گیا ہے، بلکہ اس لیے کہ اشیاء ضروری اجازت نامے کے بغیر ہی جنوبی افریقہ سے بیرون ملک بھیجی گئی تھی۔اس نیلامی کے دوران نیلسن منڈیلا کی جن دیگر یادگاروں کو نیلام کیا جانا تھا، ان میں ان کی معروف ’مادیبا‘ قمیص، چشمہ اور کچھ یادگاری قلم بھی شامل تھے۔
جنوبی افریقہ میں فنون اور ثقافت کے وزیر ناتھی میتھیتھا نے اس نیلامی کی معطلی کو سراہا ہے۔ اس وزارت نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ یہ چابی جہاں ایک طرف جنوبی افریقہ کی دردناک تاریخ کی ایک علامت ہے، وہیں یہ برائی پر انسانی روح کی فتح کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔
اس بیان میں مزید کہا گیا ہے یہ چابی جنوبی افریقی باشندوں کی آزادی کے طویل اور کٹھن سفر کا زندہ ثبوت ہے اور اس کا تعلق جنوبی افریقہ کے لوگوں سے ہے۔ اسی لیے درست یہی ہے کہ اسے اس ملک کو واپس کر دیا جائے۔نسل پرستی کے خلاف مہم چلانے کے لیے نیلسن منڈیلا کو 27 برس قید کی سزا دی گئی تھی۔
تاہم انہیں اس میں کامیابی ملی اور بالآخر سن 1994 میں وہ جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے اور 1999 تک وہ اس عہدے پر فائز رہے۔ 95 برس کی عمر میں ان کا انتقال 2013 میں ہوا۔ جیل میں قید کے دوران منڈیلا کے سابق محافظ کرسٹو برانڈ نے ان سے اچھی دوستی قائم کر لی تھی اور سن 1980 کی دہائی سے ہی قید خانے کی چابی انہی کے قبضے میں تھی۔
حالانکہ منڈیلا کی سب سے بڑی بیٹی مکازیوے منڈیلا امواہ نے گرنسیز سے اس نیلامی کا عمل جاری رکھنے کے لیے کہا تھا۔ نیلام گھر کا کہنا تھا کہ ان اشیاکی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقوم اس مرحوم رہنما کی قبر کے آس پاس ایک یادگاری باغ اور میوزیم بنانے کے لیے استعمال کی جانا تھیں۔



