دبئی ، 15دسمبر:(اردودنیا/ایجنسیاں) متحدہ عرب امارات میں یہودی بچّوں کے پہلے دس روزہ تربیتی کیمپ کا پیر کے روز سے آغازہوگیا ہے۔ملک میں مقیم ربی نے اس اقدام کو’’گیم چینجر‘‘قرار دیا ہے۔الصفا ،دبئی میں واقع منی معجزات یہودی پری اسکول میں منعقدہ کیمپ گان ایزی میں شرکاء کو یہود کی تاریخ اور مذہبی طریقوں کے اسباق پڑھائے جائیں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ گیند بازی اور ٹیلنٹ شوزوغیرہ بھی کیمپ کی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔متحدہ عرب امارات میں مقیم ربی لیوی ڈچمین نے بتایا کہ یہ سب کچھ زبردست ہے۔ یہ ابراہیم معاہدے کا براہِ راست نتیجہ ہے اور ہم اس کے بارے میں بہت پرجوش ہیں۔ کیمپ کے آغاز کے موقع پر اتفاق سے اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے یواے ای کاتاریخی دورہ کیا تھا۔
انھوں نے ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی تھی۔ کسی اسرائیلی رہنما کا متحدہ عرب امارات کا یہ پہلا سرکاری دورہ تھا۔کیمپ گان ایزی دنیا بھر میں درجنوں مقامات پر منعقد ہوتا ہے اور وہ متحدہ عرب امارات میں یہودی بچوں کو ان کے مذہبی ورثے کے بارے میں سکھانے کے لیے امریکہ اور فرانس سے کونسلروں کولایا جارہا ہے۔
یہ کیمپ 22دسمبر تک جاری رہے گا۔اس میں شرکت کے لیے 50 سے زیادہ یہودی بچوں نے اپنے ناموں کا اندراج کرایا ہے۔واضح رہے کہ ربی ڈچمین خود بھی کیمپ گان ایزی میں ایک نوجوان کے طور پر کام کرچکے ہیں، وہ گذشتہ سات سال سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔
ڈچمین نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ کیمپ متحدہ عرب امارات میں پرورش پانے والے یہودی بچوں کے لیے’کھیل کا پانسہ پلٹنے والا‘ہے۔اس سے انھیں نئے دوستوں سے تعلق داری قائم کرنے اور نئے لوگوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے۔



