بیجنگ، 11،جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چین کے شہر بیجنگ میں جہاں اگلے مہینے ہونے والے سرمائی اولمپکس کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، وہاں اس کے قریب واقع ایک اور شہر میں اومیکرون کے کیسز رپورٹ ہونے سے تشویش پھیل گئی ہے اور حکام نے وہاں بڑے پیمانے پر کرونا ٹیسٹنگ شروع کر دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق تیانجن میں گزشتہ دو دنوں کے دوران اومیکرون کے کم ازکم 40 نئے کیسز سامنے آ چکے ہیں، جس کے بعد وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں اور تیانجن اور بیجنگ کے درمیان بس اور ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے کرونا وائرس سے متعلق مرکز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیر کی صبح تک دنیا بھر میں کووڈ-19 سے متاثرہ افراد کی تعداد 30 کروڑ 70 لاکھ سے بڑھ گئی چکی تھی، جب کہ اموات 55 لاکھ تھیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اب تک دنیا بھر میں ویکسین کی 9 ارب 40 کروڑ سے زیادہ خوراکیں دی جا چکی ہیں۔اومیکرون دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والے ویرینٹ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ کم شدت کی یہ جینیاتی قسم ویکسین نہ لگوانے والوں کے لیے بدستور خطرناک ہے۔ناقدین کے مطابق زیادہ تر ویکسین ترقی یافتہ ممالک میں لگائی گئی ہیں، جب غریب ملکوں میں ویکسین دینے کی شرح انتہائی کم ہے۔
اقوام متحدہ نے امیر ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کھلے دل کے ساتھ غریب ملکوں کو ویکسین کے عطیات دیں، کیونکہ جب تک پس ماندہ ملکوں میں عالمی وبا کا پھیلاؤ روکا نہیں جائے گا، اس پر قابو پانا مشکل ہو گا۔یورپ بھی بدستور اومیکرون کی لپیٹ میں ہے۔
برطانیہ میں صحت کے حکام عوامی آگہی کی ایک مہم شروع کر رہے ہیں جس میں حاملہ خواتین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ عالمی وبا سے محفوظ رہنے کے لیے ویکسین لگوائیں۔ یہ مہم ان رپورٹس کے بعد شروع کی جا رہی ہے کہ کرونا وائرس کے ساتھ اسپتالوں میں داخل ہونے والی 96 فی صد سے زیادہ حاملہ خواتین نے ویکسین نہیں لگوائی ہوئی تھی۔
کووڈ-19 کا نیا ویرینٹ برطانیہ کے صحت کے شعبے پر بہت بھاری پڑ رہا ہے۔ برطانیہ کا صحت کی دیکھ بھال کا قومی نظام گزشتہ سال فروری سے شدید دباؤ میں چلا آ رہا ہے۔ برطانیہ کے وزیر صحت ساجد جاوید نے جمعے کے روز کہا تھا کہ فکر کی بات یہ ہے کہ ہم آئندہ ہفتوں میں اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں، جن میں زیادہ تعداد عمر رسیدہ لوگوں کی ہے۔
ایک ہفتہ قبل برطانیہ کے طبی عملے کے تقریباً 80 ہزار کارکن چھٹیوں پر تھے جس کی بڑی وجہ ان کا کرونا وائرس میں مبتلا ہونا تھا۔ جب کہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس تعداد میں مزید 13 فی صد اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ این ایچ ایس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپنی ڈیوٹی پر نہ آنے والے طبی عملے کی تقریباً نصف تعداد کووڈ-19 میں مبتلا ہے۔
سائپرس ڈیلی میں شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹی آف سائپرس کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے کرونا وائرس کا ایک نیا ویرینٹ دریافت کیا ہے جو پہلے سے موجود جنیاتی اقسام ڈیلٹا اور اومیکرون کا امتزاج ہے۔



