بین الاقوامی خبریں

فلسطینیوں پر تشدد میں ملوث اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیوں کا امکان

ان اقدامات کا ہدف ایسے افراد اور ادارے ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر ایسے اقدامات میں ملوث ہیں

واشنگٹن، 21نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)صدر بائیڈن نے اعلیٰ امریکی حکام کو مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر حملہ کرنے اور انہیں اپنے گھروں سے بے دخل کرنے والے انتہاپسند اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف ویزہ کی اور دیگر پابندیاں لگانے سے متعلق اقدامات تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔پولیٹیکو کی ایک رپورٹ کے مطابق بھیجے گئے ایک میمو میں وزیر خارجہ انٹنی بلنکن، وزیر خزانہ جینیٹ ییلن اور سینئر معاونین سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اداروں کو فوری طور پر مغربی کنارے میں تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے پالیسی تیار کرنے کی ہدایت کریں۔اسی حوالے سے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ امریکہ مغربی کنارے میں شہریوں پر حملہ کرنے والے انتہاپسندوں کے خلاف ویزہ کے اجرا پر پابندیوں سمیت دیگر اقدامات کے لیے تیار ہے۔میمو میں کہا گیا ہے کہ ان اقدامات کا ہدف ایسے افراد اور ادارے ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر ایسے اقدامات میں ملوث ہیں جو مغربی کنارے کی سلامتی یا استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

شہریوں کو خوف زدہ یا انہیں نقل مکانی پر مجبور کرتے ہیں۔مغربی کنارے میں رملہ کے قریب ایک شخص اپنے سمارٹ فون پر ایک جلے ہوئے مکان کی تصویر لے رہا ہے جسے اسرائیلی آبادکاروں نے نذر آتش کر دیا تھا۔مغربی کنارے میں رملہ کے قریب ایک شخص اپنے سمارٹ فون پر ایک جلے ہوئے مکان کی تصویر لے رہا ہے جسے اسرائیلی آبادکاروں نے نذر آتش کر دیا تھا۔جنوبی اسرائیل پر حماس کے عسکریت پسندوں کے مہلک حملے کیبعد غزہ کی پٹی پر اسرائیلی طیاروں کی کارروائیاں شروع ہوئیں تو مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد فلسطینوں کے مطابق انہیں ایک مختلف قسم کی جنگ کا سامنا ہوا۔راتوں رات علاقے کو بند کر دیا گیا۔ آبادیوں پر چھاپے مارے گئے، کرفیو کا نفاذ کیا گیا، نوجوانوں کو پکڑا گیا، قید میں ڈالا گیا، مارا پیٹا گیا اورفلسطینیوں کے قصبوں پر اسرائیلی محافظوں نے دھاوے بولے۔یہ حملے ایک ایسے وقت میں شروع ہوئے جب عالمی برادری کی توجہ غزہ کی صورت حال اور وہاں پیدا ہونے والے انسانی بحران پر مرکوز تھی۔

اقوام متحدہ کے مطابق فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں غیرمعمولی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔ وہاں جنم لینے والی کشیدگی نے خوف اور مایوسی کے إحساس کو گہرا کر دیا ہے۔ فلسطینی نہ صرف اپنے روزگار اور گھروں سے محروم ہوئے ہیں بلکہ بعض واقعات میں تو انہیں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔مغربی کنارے کے ایک گاؤں قریوت کے 52 سالہ فلسطینی کسان صابری بوم نے اپنے بچوں کو اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنے گھر کی کھڑکیوں پر لوہے کے جنگلے لگوا لیے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری زندگیاں جہنم بن گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی آبادکاروں نے ان کے گاؤں پر گرینیڈ پھینکے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم جیل میں بند ہیں۔

یہ صابری کی ہی نہیں بلکہ مغربی کنارے میں آباد بہت سے فلسطینی کسانوں کی بھی کہانی ہے۔اسرائیل پرحماس کے حملے سے پہلے ہی موجودہ سال 2023 مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے لیے گزشتہ 20 برسوں کے دوران سب سے زیادہ ہلاکت خیز بن چکا ہے۔ اس سال اب تک 250 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر ہلاکتیں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں ہوئی ہیں۔7 اکتوبر سے اسرائیل اور حماس کے درمیان چھڑنے والی لڑائی میں اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 206 فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button