طالبان نے اسٹریٹیجک برتری حاصل کر لی ہے، افغانستان پر طالبان کے قبضے کا امکان موجود ہے: امریکہ
نیویارک،22؍جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے #پینٹاگون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ #طالبان نے #افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ میں بظاہر ‘اسٹریٹیجک برتری‘ حاصل کرلی ہے۔ انہوں نے اہم شہروں پر اپنا دباو بڑھا دیا ہے اور آنے والے ہفتوں میں فیصلہ کن معرکہ کے لیے اسٹیج تیار ہوگیا ہے۔جنرل مارک ملی کا کہنا تھا۔
اب قوت ارادی اور افغان قیادت، افغان عوام، افغان سکیورٹی فورسیز اور افغان حکومت کا امتحان ہونے والا ہے۔جنرل مارک ملی (Mark Milley) کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکی فوج کا افغانستان سے انخلاء تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ 95 فیصد انخلاء ہوچکا ہے اور 31اگست تک امریکی فوج کا انخلاء مکمل ہوجائے گا۔ بائیڈن انتظامیہ نے تاہم اگست کے بعد بھی افغان فورسز کو مالی امداد اور لاجسٹک تعاون جاری رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔جنرل مارک ملی نے کہا کہ طالبان نے افغانستان میں 419 ڈسٹرک سینٹروں میں سے تقریباً نصف پر قبضہ کرلیا ہے اور حالانکہ وہ 34 صوبائی دارالحکومتوں میں سے کسی پر بھی ابھی قبضہ نہیں کرسکے ہیں لیکن ان میں سے تقریباً نصف پر ان کی جانب سے زبردست دباو ہے۔
طالبان کی جانب سے زیادہ سے زیادہ علاقوں پر قبضہ کو دیکھتے ہوئے افغان سکیورٹی فورسز اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہی ہے تاکہ کابل سمیت دیگر علاقوں میں آبادیوں کی حفاظت کی جاسکے۔جنرل ملی کا کہنا تھا،’’پچھلے چھ، آٹھ، دس ماہ کے دوران طالبان نے قابل ذکر علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے اور وہ جس تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں وہ ایک طرح سے فیصلہ کن رفتار ہے۔
امریکی فوجی سربراہ نے کہا کہ طالبان حالانکہ یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ امریکا کی حمایت یافتہ کابل حکومت پر ان کی فتح ناگزیر ہوچکی ہے لیکن ’’وہ سمجھتے ہیں کہ افغان فوج او رپولیس نے جو تربیت حاصل کی ہے اورجو اسلحے اس کے پاس ہیں ان کی بنیاد پر وہ مقابلہ کرسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ مذاکرات سے سیاسی حل نکل آئے۔ لیکن وہ ’’طالبان کی جانب سے مکمل قبضہ کرلینے کو خارج از امکان قرار دیتے ہیں۔
جنرل ملی کا کہنا تھا،’’میں نہیں سمجھتا کہ کھیل اب ختم ہو چکا ہے۔پریس کانفرنس میں موجود امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ اب ہم افغانستان میں طالبان پر نہیں بلکہ دہشت گردی کے خطرات کا مقابلہ کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے۔آسٹن کا کہنا تھا کہ ہم القاعدہ پر نگاہ رکھیں گے، اس انتہاپسند نیٹ ورک پر جس نے افغانستان کو امریکا پر نائن الیون حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے ایک پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا اور جس کے بعد امریکا کو سن 2001 میں افغانستان پرچڑھائی کرنی پڑی۔
امریکی وزیر دفاع نے کہا،’’ہم سب سے زیادہ اس امر کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کر یں گے کہ افغانستان سے تشدد، دہشت گردی ہمارے ملک میں ایکسپورٹ نہ ہونے پائے۔ اس لیے ہم نہ صرف ان صلاحیتوں کو برقرار کھیں گے جو ان خطرات کو بھانپ لے بلکہ ان کے ابھرنے سے پہلے ان کا ازالہ کرسکے۔انہوں نے یاد دلایا کہ طالبان نے سن 2020 میں وعدہ کیا تھا کہ وہ مستقبل میں القاعدہ کو محفوظ پناہ گاہ فراہم نہیں کر یں گے۔
’’ہمیں توقع ہے کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کریں گے۔ اگر وہ قانونی طورپر آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس پر ضرور غور کریں گے۔امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے دو برس بعد القاعدہ کی جانب سے مغربی ملکوں پر حملے کرنے کا ‘درمیانہ درجے‘ کا خطرہ ہے۔ لیکن بعض ایسی باتیں ہوسکتی ہیں جن سے اس کی رفتار تیز یا کسی حد تک سست پڑسکتی ہے۔
امریکی وزیر دفاع جنرل لائڈ آسٹن اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے ایک بریفنگ میں کہا ہے کہ طالبان نے افغانستان میں 212 کے قریب اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے اس لئے غالب امکان ہے کہ ہے طالبان افغانستان پر قبضہ کر لیں گے۔واضح رہے کہ امریکہ نے ریاست افغانستان سے 2013ء میں ایک معاہدہ کیا تھا جس کی شقوں میں یہ بات واضح ہے کہ امریکی افواج کسی بھی وقت افغانستان آسکتی ہیں چاہے طالبان چاہیں یا نہ چاہیں یا کوئی اور قوت مخالف ہو لیکن یہ معاہدہ منسوخ ہونے تک کارآمد ہے۔اس معاہدے کی شق 26کے مطابق اس معاہدے کو منسوخ کرنے سے پہلے دونوں فریقین امریکااور افغانستان میں سے جو بھی اس کو منسوخ کرنے کا خواہشمند ہواس کو دو سال کا نوٹس دینا ضروری ہے۔



