متحدہ عرب امارات فی کس آمدنی کے حوالے سے دنیا میں ساتویں نمبر پر
چھوٹی فرمیں اماراتی شہریوں کو بھرتی کریں یا بھاری جرمانہ دیں: یو اے ای
دبئی،13جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)متحدہ عرب امارات نے مجموعی قومی آمدنی میں فی کس کے حوالے سے دنیا بھر میں ساتویں نمبر پر ہے۔امارات کی سرکاری خبررساں ایجنسی ’وام‘ کے مطابق اماراتی شہری فی کس آمدنی کے حوالے سے دنیا کے دس مالدار ممالک کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں۔ ماہ رواں جولائی میں جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق امارات میں فی کس قومی آمدنی 87300 ڈالر (3 لاکھ 20 ہزار درہم) ہوگئی۔ اس سے پہلے فی کس آمدنی 76810 ڈالر (2 لاکھ 81 ہزار 900 درہم) تھی۔ فی کس آمدنی کے لیے موجودہ بین الاقوامی ڈالر میں قوت خرید کی بنیاد پر اعداد وشمار جاری کیے گئے ہیں۔بین الاقوامی ڈالر ایک مجازی کرنسی ہے جو مختلف ممالک کی قوت خرید کا موازنہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
یہ امریکی ڈالر پر مبنی ہے لیکن اس میں ہر ملک میں مقامی کرنسی کی طرح ہی قوت خرید ہے۔عالمی بینک کے مطابق امارات نے اٹلس طریقہ کار کی بنیاد پر فی کس سب سے زیادہ آمدنی والے ممالک کی فہرست میں اپنی پوزیشن مستحکم کرلی جبکہ موجودہ امریکی ڈالر کی قیمتوں کو بھی استعمال کیا۔عالمی بینک اٹلس طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے آمدنی کی بنیاد پر دنیا کی معیشتوں کو چار گروپوں میں تقسیم کرتا ہے، جو کم آمدنی، کم متوسط آمدنی، زیادہ متوسط آمدنی اور زیادہ آمدنی ہیں۔گزشتہ مالی سال سے فی کس آمدنی کی بنیاد پر درجہ بندی کو جولائی کے آغاز میں سالانہ اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔نئی درجہ بندی میں کم آمدنی والے ممالک کی فی کس آمدنی 1,135 امریکی ڈالر سے کم ہے۔ کم متوسط آمدنی والے ممالک کی فی کس آمدنی 1,136 سے 4،465 امریکی ڈالر، زیادہ متوسط آمدنی 4،466 سے 13،845 امریکی ڈالر تک جبکہ زیادہ آمدنی والے ممالک 13،845 امریکی ڈالر ہے۔
چھوٹی فرمیں اماراتی شہریوں کو بھرتی کریں یا بھاری جرمانہ دیں: یو اے ای
متحدہ عرب امارات نے اپنے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے کے لیے نجی شعبے کی چھوٹی کمپنیوں کو بھی ایمرٹائزیشن اسکیم میں شامل کر لیا ہے۔ چھوٹی کمپنیاں وہ ادارے ہیں جن کے ملازمین کی تعداد 50 سے کم ہے۔20 سے 49 ملازمین کے ساتھ چلنے والے نجی اداروں کو 2024 میں کم از کم ایک متحدہ عرب امارات کے شہری اور 2025 تک ایک دوسرے کی خدمات حاصل کرنا لازم ہو گا۔ انسانی وسائل اور امارت کاری کی وزارت کی جانب سے ایمرٹائزیشن کے حوالے سے حالیہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔رہنما خطوط کے مطابق خدمات حاصل کرنے میں ناکام رہنے والی فرم کو 2025 کے آغاز میں 26 ہزار 100 ڈالر جرمانہ کیا جائے گا۔ 2026 کے آخر میں یہ جرمانہ 29 ہزار 400 ڈالر ہو جائے گا۔
جرمانہ عائد ہونے کی صورت میں اسے قسطوں میں ادا کیا جا سکے گا۔حکومتی ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ فیصلے کا مقصد 14 اہم اقتصادی شعبوں میں ٹارگٹڈ اداروں میں ملازمت کرنے والے اماراتیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔جن 14 شعبوں میں کام کرنے والے اداروں کے حوالے سے نیا اقدام اٹھایا گیا ہے ان میں معلومات اور مواصلات، مالیاتی اور انشورنس سرگرمیاں، رئیل اسٹیٹ، پیشہ ورانہ اور تکنیکی سرگرمیاں، انتظامی اور معاون خدمات، فنون اور تفریح، کان کنی اور کھدائی، تبدیلی کی صنعتیں، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور سماجی کام، تعمیرات، نقل و حمل اور گودام، مہمان نوازی اور رہائش کی سروسز،، ہول سیل اور ریٹیل کی سروسز شامل ہیں۔
اس حوالے سے اماراتی وزیر نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ایمریٹائزیشن اہداف کے ذریعے ہدف بنائے گئے اداروں کو وسعت دینے سے مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور یہ اقدام ہمارے شہریوں اور خود اداروں دونوں کے لیے فائدے کا باعث بنے گا۔ یہ ادارے نفیس پروگرام کی حمایت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔نفیس ایک وفاقی پروگرام ہے جو اگلے پانچ سالوں میں ملک کے نجی شعبے میں متحدہ عرب امارات کے شہریوں کی شمولیت کو بڑھانا چاہتا ہے۔ یہ پروگرام وسیع پیمانے پر معاون ماحولیاتی نظام پیش کرتا ہے۔ اس پروگرام میں تنخواہ کی امدادی سکیمیں، بے روزگاری کے دوران مراعات اور ملازمت کے دوران تربیت جیسی سہولیات شامل ہیں۔



