ڈمپلنگ کھانے کا وائرل چیلنج، چینی ریستوران کیخلاف تفتیش کا آغاز
چین میں ایک ریستوران کی ڈمپلنگ کھانے کے چیلنج کے بعد تفتیش کی جاری ہے۔اس ریستوران پر ملک کے ’اینٹی فوڈ ویسٹ‘ کے قوانین کو توڑنے کا مبینہ الزام ہے۔
بیجنگ،12جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) چین میں ایک ریستوران کی ڈمپلنگ کھانے کے چیلنج کے بعد تفتیش کی جاری ہے۔اس ریستوران پر ملک کے ’اینٹی فوڈ ویسٹ‘ کے قوانین کو توڑنے کا مبینہ الزام ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق صوبہ سیچوان میں واقع اس ریستوران نے 100 ڈمپلنگ کھانے کے بدلے بطور انعام مفت کھانا دینے کا اعلان کیا اور 100 ڈمپلنگ کھانے والے کو ’بڑے پیٹ والے بادشاہ‘ کا خطاب دینے کا فیصلہ کیا۔اس ریستوران میں ہونے والے اس مقابلے کے قواعد و ضوابط کے مطابق مقابلے میں شریک افراد جلد از جلد تیز مرچوں والے وونٹون ڈمپلنگ کھانا ہوں گے۔آؤٹ لیٹ کے مطابق چینی حکام کا کہنا ہے کہ اس وائرل چیلنج نے عوام کو ضرورت سے زیادہ کھانے پر ’ورغلایا‘ ہے جس کے باعث کھانا ضائع ہوا ہے۔
اس کے بعد سٹیٹ ایڈمنسٹریشن فار مارکیٹ ریگولیشن کی جانب سے تفتیش کا اعلان کیا گیا ہے جس میں دیکھا جائے گا کہ آیا ریستوران نے کھانا ضائع کرنے کا قانون توڑا ہے یا نہیں۔مقامی مارکیٹ کے ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ ’ییبن میں واقع اس ریستوران نے لگاتار کھانے اور پینے کو ترویج دی ہے اور گاہکوں کو اس بات پر ابھارا ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ چیزوں کا آرڈر دیں۔خیال رہے چین نے 2021 میں اس قانون کو اس وقت پاس کروایا تھا جب بسیار خوری اور فضول خرچی کو چینی صدر شی جنگ پنگ نے حیران کن اور تکلیف دہ قرار دیا تھا تاہم اس قانون کے دو سال بعد بھی چینی شہری اس قانون کو اپنے اوپر مکمل طور پر نافذ نہیں کر پا رہے۔



