بین الاقوامی خبریں

طالبان سے بات چیت کے علاوہ اورکوئی دوسرا راستہ نہیں ہے: جرمنی

برلن ، یکم ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جرمن وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ طالبان کو باقاعدہ تسلیم کرنے پر غور کرنے کے بجائے موجودہ مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم قطر کا کہنا ہے کہ طالبان کو الگ تھلگ رکھنے سے افغانستان کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔قطر میں اپنے منصب سے ملاقات کے ساتھ ہی جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس کا افغانستان کے پڑوسی ممالک کا چار روزہ دورہ مکمل ہو گیا ہے۔

دوحہ میں جرمن وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگرسیاسی سطح پر ممکن ہو اور سکیورٹی کی صورت حال اس کی اجازت دے، تو جرمنی کابل میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کو بھی تیار ہے۔ جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس (German Foreign Minister Heiko Maas) نے افغانستان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے منگل کی شام کو دوحہ میں تھے۔

قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبد الرحمن بن جاسم الثانی کے ساتھ بات چیت کے بعد انہوں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر قطر کے وزیر خارجہ نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کو الگ تھلگ رکھنے سے افغانستان کے مزید غیر مستحکم ہونے کا خطرہ ہے اس لیے سکیورٹی امور اور سماجی معاملات پر تشویش کے حوالے سے اس کے ساتھ بات چیت کرنا ضروری ہے۔

وزیر خارجہ محمد بن عبد الرحمان بن جاسم الثانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہاکہ اگر ہم شرائط رکھنا شروع کریں گے اور ا ن کے ساتھ مذاکرات کو روک رہے ہیں تو پھر، ہم ایک خلا چھوڑنے والے ہیں اور سوال یہ ہے کہ پھر اس خلا کو پر کون کرے گا؟امریکہ کے اتحادی خلیجی ملک قطر نے طالبان کے ساتھ بات چیت اور انخلا کے معاہدے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

سن 2013 سے ہی دوحہ میں طالبان کا دفتر بھی ہے چنانچہ اس معاملے میں وہ ایک بڑا ثالث بن کر ابھرا ہے۔طالبان نے 15 اگست کو ہی افغانستان پر قبضہ کر لیا تھا اور اب تمام بیرونی افواج بھی افغانستان سے جا چکی ہیں، تاہم دنیا کے کسی بھی ملک نے ابھی تک طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔بیشتر مغربی ممالک نے طالبان پر ایک مخلوط حکومت تشکیل دینے اور انسانی حقوق کا احترام کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button