بین الاقوامی خبریں

افغانستان سے راہِ فرار کے علاوہ اور کوئی چارۂ کار نہ تھا: اشرف غنی

لندن ،31دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سابق افغان اور امریکی حکام کے بیانات کی نفی کرتے ہوئے، افغانستان کے سابق صدر نے کہا ہے کہ ان کے مشیر نے انھیں چند ہی منٹوں کے اندر یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہا تھا کہ آیا وہ دارالحکومت کابل چھوڑنے پر تیار ہیں؟ یہ وہ وقت تھا جب 15 اگست کو طالبان، دارالحکومت کا کنٹرول سنبھالنے کی دستک دے رہے تھے۔بی بی سی کے ساتھ ایک غیر معمولی انٹرویو میں جمعرات کے روز اشرف غنی نے کہا کہ اس سے پہلے کبھی ان کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ ایسا بھی کوئی لمحہ آئے گا جب وہ ملک چھوڑنے کا سوچ بھی سکتے ہیں۔

غنی نے اس بات کی تردید کی کہ اقتدار کی پرامن منتقلی سے متعلق کسی قسم کی کوئی بات چیت جاری تھی۔ انھوں نے ان الزامات کی بھی تردید کی کہ جاتے ہوئے وہ نقدی کا بے شمار خزانہ اپنے ساتھ لے گئے تھے۔اس ماہ کے اوائل میں سابق صدر حامد کرزئی نے ایسو سی ایٹڈ پریس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اشرف غنی کے فرار کے نتیجے میں طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات میں کوئی سمجھوتہ طے کرنے کا موقع ضائع ہوگیا تھا۔

ایسے میں جب 20 سالہ لڑائی کے خاتمے پر امریکہ اور نیٹو کی افواج انخلا کے آخری مراحل میں تھیں، پندرہ اگست کو غنی کے ملک سے فوری فرار ہونے کے نتیجے میں شہر کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔اشرف غنی نے بی بی سی ریڈیو کو بتایا کہ اس روز صبح مجھے شائبہ تک نہیں تھا کہ شام گئے میں ملک چھوڑ کر چلا جاؤں گا”۔

غنی کے اس بیان سے اس تاثر کی نفی ہوتی ہے جو دیگر ذرائع سے اب تک سامنے آیا ہے۔حامد کرزئی نے کہا تھا کہ اقتدار کی پر امن منتقلی کے بارے میں حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری تھے، جس میں وہ خود اور امن کونسل کے سربراہ عبدا للہ عبداللہ شامل تھے، تاکہ آخری لمحات میں طالبان کے ساتھ سمجھوتہ طے پاجائے، جب کہ طالبان نے وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ دارالحکومت سے باہر رہیں گے۔ لیکن، یہ سمجھوتہ اس لیے نہیں ہوسکا کیونکہ اشرف غنی اچانک ملک سے فرار ہوگئے۔

کرزئی نے کہا تھا کہ اس پر انھوں نے وزیر دفاع بسم اللہ خان، وزیر داخلہ اور پولیس کے سربراہ کو فون کیے اور معلوم ہوا کہ سب کے سب دارالحکومت سے چلے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تب ہی انھوں نے طالبان کو کابل میں داخل ہونے کی دعوت دی تاکہ عوام کو تحفظ فراہم ہو، شہر اور ملک افراتفری سے بچ جائے، اور ایسے کسی عناصر کو یہ موقع نہ ملے کہ ملک میں لوٹ مار ہو اور دوکانوں کو لوٹا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button