نیویارک ، 16جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بایک نئی کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے گذشتہ سال جب ٹرمپ کے حامیوں نے کیپٹل ہل پر دھاوا بولا تو ٹاپ امریکی جنرل کو خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ صدر #ڈونلڈ #ٹرمپ ایڈولف #ہٹلر کی طرح آئین منسوخ کرکے اقتدار پر قبضہ کریں گے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق واشنگٹن پوسٹ کے رپوٹروں کیرل لیوننگ اور فلپ ریوکر کی نئی کتاب کے اقتباسات کے مطابق جوائنٹ چیفس کے چیئرمین جنرل مارک ملی نے اپنے قریبی ساتھیوں سے کہا تھا کہ #جوبائیڈن کی جیت کو تسلیم نہ کرکے ٹرمپ ہر صورت میں اقتدار برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
1933 میں #جرمن #پارلیمنٹ میں آ گ لگنے کے واقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہٹلر نے #شہری حقوق معطل کر دیئے تھے جس سے نازیوں کے لیے حکومت مضبوط بنانے کی راہ ہموار ہوئی۔کتاب میں لکھا ہے کہ ’گذشتہ برس نومبر میں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو واشنگٹن کی جانب مارچ کا کہا تو ان کے تعینات کردہ جنرل مارک ملی نے پریشانی کا اظہار کیا کہ وہ ہٹلر (Adolf Hitler) کے پرتشدد حامیوں کی طرح گلیوں میں براؤن شرٹس کو تعینات کر رہے ہیں۔
یہ وہی وقت تھا جب ان کے حامیوں نے کیپٹل ہل پر حملہ کیا تھا۔ کتاب کے مطابق مارک ملی اور ان کے ساتھیوں نے ایک ایک کرکے استعفیٰ دینے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ اس بات کا اشارہ ملے کہ وہ کسی بغاوت کا حصہ نہیں ہیں۔کتاب میں لکھا ہے کہ مارک ملی نے اپنے ساتھوں سے کہا کہ ’ہو سکتا ہے کہ وہ کوشش کریں، لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ آ پ فوج، سی آ ئی اے اور ایف بی آ ئی کی حمایت کے بغیر یہ نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس بندوق ہے۔
اس کتاب کا عنوان’ آ ئی الون کین فکس اِٹ‘ہے اور اس کی رونمائی اگلے ہفتے متوقع ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ ٹرمپ کے شکست تسلیم نہ کرنے کو حکومتی حلقوں میں کس نظر سے دیکھا گیا۔ مارک ملی نے پہلے ہی ٹرمپ کی بلیک لائیوز میٹر مظاہرین کیخلاف مختلف شہروں میں فوج بلانے کی خواہش کی مزاحمت کی تھی۔



