استنبول،15فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ترک حکام نے ایسے ایک لاکھ ساٹھ ہزار معاملات کی تفتیش شروع کر دی ہے، جن میں ملکی صدر کی ممکنہ توہین کی گئی۔ اس تفتیش کا آغاز 2014میں ہوا تھا، جب وہ ملکی صدر بنے تھے۔صدر رجب طیب ایردوآن کے بارے میں توہین آمیز جملے اور فقرے ادا کرنے والوں کے خلاف تفتیش کے ساتھ ساتھ ان کی گرفتاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔
دارالحکومت انقرہ اور سب سے بڑے شہر استنبول کے دفاتر استغاثہ کے مطابق اس وقت کم از کم چھتیس تفتیشی کیس جاری ہیں اور اب تک چار افراد کو حراست میں بھی لیا جا چکا ہے۔اس کے علاوہ چار دیگر افراد کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔ انہی میں سے ایک سوئمنگ چمپئن دریا بوئیکن جو بھی ہیں، جو اب عدالتی کارروائی کے منتظر ہیں۔
ان کی رکنیت کو ترک سوئمنگ فیڈریشن نے مستقل طور پر معطل کر رکھا ہے۔ترکی میں ملکی صدر کے بارے میں توہین آمیز کلمات ادا کرنا ایک فوجداری جرم ہے اور یہ قانون ایردو آن کے صدر بننے سے بھی کئی سال قبل سے نافذ ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان سے پہلے ملکی صدور نے اس قانون کا بہت زیادہ استعمال نہیں کیا تھا۔ ان سے قبل تین صدور عبد اللہ گل، احمد نجد سیزر اور سلیمان ڈیمرل کے ادوار میں درج کیے جانے والے ایسے مقدمات کی تعداد محض ایک ہزار ایک سو انہتر تھی۔ایسے حکومتی اقدامات کے تناظر میں ترک عوام میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ آیا ایسے عام بول چال کے جملے آزادیٔ اظہار کے منافی ہیں اور یہ ملکی صدر کی بے عزتی کا سبب ہیں۔
اب ان معاملات کا فیصلہ ترک عدالتوں کو کرنا ہے۔ترک وزارتِ انصاف کے مطابق صدر ایردوآن کی توہین کرنے کے اکتیس ہزار تفتیشی کیسز کا عمل سن 2020 میں شروع کیا گیا تھا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ توہین آمیز جملوں کی ادائیگی پر تفتیشی عمل سن 2014 میں شروع کیا گیا۔
یہ وہی سال تھا جب رجب طیب ایردوآن نے منصبِ صدارت سنبھالا تھا۔قریب آٹھ برسوں میں ایردوآن کی توہین کے واقعات، جن کی تفتیش شروع کی گئی، ان کی مجموعی تعداد ایک لاکھ ساٹھ ہزار بنتی ہے۔
انتالیس ہزار افراد کو جلد ہی عدالتوں کے کٹہروں میں کھڑا کر دیا جائے گا۔استنبول کی ایک یونیورسٹی کے قانون کے پروفیسر یمان اکدینیز کا کہنا ہے کہ اب تک تیرہ ہزار مقدمات میں فیصلے سنائے جا چکے ہیں۔



