نیویارک،31دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے کہا ہے کہ کیلیفورنیا کے ایک شخص کو سنہ 2019 میں ایک یہودی عبادت گاہ اور مسجد پر حملہ کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ نیوز کے مطابق حملے کے بعد پولیس کا کہنا تھا کہ جان ارنسٹ نامی شخص نے عبادت گاہ میں مزید لوگوں کو مارنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن اس کی خودکار رائفل جام ہو گئی تھی۔
واضح رہے کہ جان ارنسٹ نے 27 اپریل 2019 کو پووے میں یہودیوں کی عبادت گاہ میں داخل ہو کر فائرنگ شروع کر دی تھی اور پولیس کے پہنچنے سے قبل ایک خاتون کو ہلاک اور تین افراد کو زخمی کیا تھا۔ جان ارنسٹ نے اس واقعے سے ایک ماہ قبل 24 مارچ 2019 کو کیلیفورنیا کے علاقے اسکونڈیڈو میں دارالارقم نامی مسجد کو آگ لگانے کا اعتراف بھی کیا۔
اٹارنی جنرل کا یہ بھی کہنا ہے کہ جان ارنسٹ نے دونوں کارروائیاں مسلمانوں سے نفرت اور عمارات کے مذہبی کردار کے باعث کیں۔گارلینڈ کا یہ بھی کہنا تھا جب مسجد کو آگ لگائی گئی اس وقت وہاں سات افراد سو رہے تھے تاہم کوئی زخمی نہیں ہوا۔ارنسٹ کو 113 جرائم کا مرتکب ٹھہرایا گیا ہے جن میں سے 54 نفرت انگیزی، 55 آگ لگانے اور چار آتشیں اسلحے سے حملے شامل ہیں۔
امریکی اٹارنی گارلینڈ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس ملک کے تمام لوگوں کو بغیر کسی حملے کے خوف کے آزادانہ طور پر اپنے مذہب کے تحت زندگی گزارنے کے قابل ہونا چاہیے۔ان کے مطابق یہ بھیانک جرم ہماری قوم کے بنیادی اصولوں پر حملہ تھا۔
محکمہ انصاف نفرت انگیزی کی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے اور نفرت پر مبنی تشدد کے مرتکب افراد کو جواب دہ ٹھہرانے کے پرعزم ہے۔ اسی طرح اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کرسٹن کلارک نے بھی کہا ہے کہ’ہمارے معاشرے میں نفرت کی کوئی جگہ نہیں اور تعصب پر مبنی تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہودیوں اور مسلمانوں کے خلاف تشدد کے ان گھناؤنے جرائم سے امریکہ کے اس بنیادی تصور خلاف ورزی کی گئی کہ تمام لوگ برابر ہیں۔



