بین الاقوامی خبریں

بین الاقوامی فوجداری عدالت سے پوٹن کی گرفتاری کے وارنٹ جاری

جنگی جرائم کے ارتکاب پر ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا

لندن،18مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) بین الاقوامی فوجداری عدالت نے جمعے کو کہا کہ اس نے روسی صدر ولادی میر پوٹن کو یوکرین میں مبینہ طور پر بچوں کے اغوا میں ملوث ہونے سے متعلق جنگی جرائم کے ارتکاب پر ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔عدالت نے ایک بیان میں کہا کہ پوٹن مبینہ طور پر بچوں کو یوکرین کے مقبوضہ علاقوں سے غیر قانونی طور پر ملک بدر کر کے روسی فیڈریشن بھیجنے کے جنگی جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔عدالت نے جمعے کو ایسے ہی الزامات کی بنا پر روسی فیڈریشن کے صدر کے دفتر میں بچوں کے حقوق سے متعلق کمشنر ، ماریا ایلیک سیونا ایل وووا بیلووا کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

عدالت کے جج پیوٹر ہوف منسکی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ اگرچہ آئی سی سی کے ججوں نے وارنٹس جاری کر دیے ہیں ، تاہم اس پر عمل درآمد کا انحصار بین الاقوامی برادری پر ہوگا۔ عدالت کے پاس وارنٹس پر عمل درآمد کے لیے اپنی کوئی پولیس فورس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی قانون کی ایک عدالت کے طور پر اپنا کردار ادا کررہی ہے۔ ججوں نے گرفتاری کے وارنٹس جاری کر دیئے ہیں۔

عمل در آمد کا انحصار بین الاقوامی تعاون پر ہوتا ہے۔ماسکو آئی سی سی کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس وارنٹ پر اولین رد عمل میں روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخاروا نے کہا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت ہمارے ملک کے لیے قانونی نقطہ نظر سمیت کوئی معنی نہیں رکھتی۔لیکن یوکرین کے عہدے دار بہت خوش تھے۔صدارتی مشیر میخائلو پوڈولیاک نے کہا کہ دنیا تبدیل ہو چکی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ قانون کے پہئے حرکت میں آرہے ہیں۔اور یہ کہ بچوں کے اغوا اور دوسرے بین الاقوامی جرائم پر بین الاقوامی مجرموں کا احتساب کیا جائے گا۔یوکرین بھی عدالت کا رکن نہیں ہے، لیکن اس نے اپنے علاقے پر آئی سی سی کو دائرہ اختیار دے رکھا ہے اور آئی سی سی کے پراسیکیوٹر کریم خان نے ایک سال قبل تحقیقات شروع کرنے کے بعد سے چار مرتبہ وہاں کا دورہ کیا ہے۔اگرچہ روس نے عدالت کے الزامات اور وارنٹس کو مسترد کر دیا ہے دوسروں نے کہا ہے کہ عدالت کا یہ اقدام اہم اثر مرتب کرے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button