ہمیں ضمانت چاہیے کہ حماس ’بائیڈن ڈیل‘ کی شرائط تبدیل نہیں کرے گی: اسرائیل
جنگ کا مکمل خاتمہ اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کا انخلاء فی الحال ناممکن ہے
مقبوضہ بیت المقدس، 19جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی مذاکراتی ٹیم کے ایک سرکردہ رکن نے کہا کہ رفح پر حملہ روکنے سے جنگ ختم نہیں ہوگی۔اسرائیلی اخبار’یدیعوت احرونوت‘ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اپنی مضبوط اور موثر فوجی مہم جاری رکھے گا۔ابھی فوج کو مزید آپریشنز کرنے ہیں۔ ان کی فوج تیاری کر رہی ہے۔ اسرائیل غزہ میں ہی رہے گا۔اہلکار نے اسرائیلی اخبار کو مزید کہا کہ اگر حماس یہ سمجھتی ہے کہ رفح میں آپریشن کے خاتمے کے ساتھ ہی لڑائی ختم ہو جائے گی تو اسے مایوسی ہوگی۔اسرائیل ایک مضبوط اور مؤثر آپریشن جاری رکھے گا اور فوج رفح میں لڑائی ختم ہونے کے بعد بھی آپریشن جاری رکھنے کی تیاری کر رہی ہے۔سینئر اہلکار کے مطابق پیشگی جنگ بندی کا مطلب قیدیوں کی تعداد کا تعین کرنا، مرد قیدیوں اور نعشوں کی واپسی کے اقدامات کرنا ہے۔
جنگ کا مکمل خاتمہ اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کا انخلاء فی الحال ناممکن ہے۔ ایسا صرف مذاکرات کے فریم ورک کے اندر ہی ممکن ہے۔ ہمیں اس بات کی ضمانت چاہیے کہ حماس معاہدے کے میکانزم مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔اس سے قبل اسرائیل نے کہا تھا کہ سابقہ معاہدوں میں حماس نے معاہدوں کی تمام شرائط پوری نہیں کیں۔ اب اگرمعاہدہ ہوتا ہے تو اسرائیل کو اس بات کی ضمانت درکار ہوگی کہ حماس معاہدے کی شرائط کو قبول کرے گی۔حال ہی میں حماس کی طرف سے امریکی صدر جوبائیڈن کی جنگ بندی تجویز پر کچھ ترامیم کے ساتھ اپنا جواب پیش کیا تھا۔حماس نے غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کے انخلاء اور مستقل جنگ روکنے کی اپنی سابقہ شرائط پر اصرار کیا ہے۔



