
لندن، ۶؍ جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغانستان میں صرف مغربی مداخلت ناکام نہیں ہوئی بلکہ عراق اور لیبیا میں بھی اس پالیسی کے خاطر خواہ فوائد سامنے نہیں آسکے۔افغانستان سے مغربی دفاعی اتحاد #نیٹو کے کچھ #ممالک کی #فوجیں پہلے ہی رخصت ہوچکی ہیں اور باقی اپنا ساز و سامان سمیٹ رہی ہیں۔ لیکن غیر #ملکی فورسز اپنے پیچھے جو ملک چھوڑ کر جارہی ہیں، وہ آج بھی مستحکم جمہوری نظام سے کوسوں دور ہے۔
اس ملک کا وسیع تر علاقہ دوبارہ طالبان کے زیر کنٹرول آچکا ہے۔ مغرب کے سیاستدانوں اور پالیسی ساز حلقے کو ایک بار پھر یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی خطے کے سیاسی مستقبل کے فیصلے محض کاغذوں پر طے نہیں کیے جاسکتے۔مثال کے طور پر سن 2004 میں منظور کیا گیا، روشن خیال اور ترقی پسند نظر آنے والا افغانستان کا آ ئین، حقیقت میں بالکل غیر مؤثر رہا ہے۔
#افغانستان ایسا واحد ملک نہیں جہاں مغربی ممالک اپنے ہی مقرر کردہ اہداف حاصل نہیں کرسکے۔ #عراق بھی ایک ایسا ہی ناکام امیدوں کا ملک ہے جہاں امریکی مداخلت کی توقعات پوری نہیں ہوسکیں۔نومبر سن 2003 میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے کہا تھا، مشرق وسطیٰ کے قلب میں آزاد عراق، عالمی جمہوری انقلاب کا ایک اہم موڑ ہوگا۔
آج عراق اپنے طاقتور ہمسایہ #ایران سے اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ #لیبیا میں بھی نیٹو نے اس وقت کے آمر معمر القذافی کے اقتدار کے خاتمے کی حمایت کی تھی لیکن اس سے منسلک امیدیں بھی پوری نہ ہوسکیں۔امریکی صدر باراک اوباما، فرانسیسی صدر نکولاس سارکوزی اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے سن 2011 میں ایک مشترکہ پالیسی میں لکھا تھا کہ اس مداخلت کے بعد ہی لیبیا میں آمریت سے حقیقی جمہوریت تک اقتدار کی منتقلی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
لیکن #قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد یہ ملک دس سالہ جنگ کا شکار ہوگیا۔ رواں برس ہی متحارب قومی جماعتیں آئین اور #پارلیمانی #انتخابات کرانے پر متفق ہوسکی ہیں۔قیام امن اور تنازعات پر تحقیق کرنے والے #جرمن محقق کونراڈ اشٹیٹر نے اپنے مطالعے ’افغانستان کی تاریخ‘ میں ان مشکلات کا خلاصہ بیان کیا ہے۔
جن کی وجہ سے مغربی ممالک اپنے اہداف کے حصول میں ناکام رہے۔اشٹیٹر نے دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ افغانستان میں دور دراز کے دشوار گزار علاقے، شہر اور دیہات کے درمیان تنازعات، فرقہ پرستی، متنوع ثقافتوں اور طبقاتی نظام پر مبنی معاشرے کی طرف اشارہ کیا ہے۔



