بین الاقوامی خبریں

وبا کی شکار دنیا کو مزید کن خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے؟

لندن،12جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)عالمی اقتصادی فورم نے منگل کو ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سائبر سیکیورٹی اور خلا میں پہنچنے کی دوڑ دنیا کی معیشت کے لیے ابھرتے ہوئے خطرات ہیں جو کہ موسمیاتی تبدیلی اور کرونا وائرس کی وبا کے باعث دنیا کو پہلے سے درپیش مسائل میں اضافے کا سبب ہیں۔

عالمی خطرات سے متعلق جاری ہونے والی یہ رپورٹ 1000 ماہرین اور رہنماؤں کی آرا پر مبنی ہے۔عام طور پر یہ رپورٹ سوئٹزرلینڈ کے برف پوش مقام ڈیووس میں کاروباری شخصیات اور عالمی رہنماؤں کے سالانہ اجتماع سے پہلے جاری کی جاتی ہے لیکن کرونا کی عالمی وبا کے باعث اس فورم کو لگاتار دوسرے سال ملتوی کر دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس سال کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن 2022 کے آغاز پر کووڈ کی عالمی وبا اور اس کے معاشی اور معاشرتی اثرات اب بھی دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔اس وقت ترقی یافتہ اور ترقی پزیر قوموں میں ویکسین تک رسائی میں بڑا فرق ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کی معیشتیں غیر مساوی رفتار سے بحال ہو رہی ہیں اور یہ رجحان سماجی تقسیم کو مزید بڑھا سکتا ہے اور جغرافیائی اور سیاسی تناؤ کو ہوا دیے سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی وبا کے باعث سن 2024 تک عالمی معیشت کا حجم اس سے 2.3 فیصد تک کم ہوگا جتنا کہ وبا نہ آنے سے ہو سکتا تھا۔ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں وبا سے پہلے کے مقابلے میں 5.5 فیصد سکٹرنے کی پیش گوئی ہے، جبکہ امیر ممالک کی معیشتیں 0.9 فیصد کی شرح سے آگے بڑھیں گی۔

عالمی وبا کے دوران دفاتر میں کام کرنے والے بہت سے لوگ گھر سے کام کر رہے ہیں جبکہ کروڑوں طالب علم گھر سے کلاس لیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان رجحانات نے آن لائن پلیٹ فارمز اور آلات میں بے پناہ اضافے کو جنم دیا اس کے نتیجے میں رونما ہونے والی تبدیلی نے سلامتی کو درپیش خطرات میں ڈرامائی انداز میں اضافہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں ڈیجیٹل معاملات کی ماہر کیرولینا کلینٹ، جو مارش نامی کمپنی میں رسک مینجمنٹ کی سربراہ ہیں، کہتی ہیں کہ ہم اس وقت اس مقام پر ہیں جہاں یہ خطرات سائبر حملوں کو مؤثر طریقے سے روکنے اور ان کا سامنا کرنے کی ہماری صلاحیت کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ مارش کی مالک کمپنی مارش میکملن، زہورخ انشورنس گروپ اور ایس۔کے گروپ نے مل کر ورلڈ اکنامک فورم کی یہ رپورٹ تیار کی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آن لائن فورمز کے وسیع تر استعمال سے سائبر حملے زیادہ جارحانہ اور وسیع تر ہوتے جا رہے ہیں، کیونکہ مجرم زیادہ خطرناک اہداف کے پیچھے جانے کے لیے سخت ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔

ڈیجیٹل دنیا میں نقائص پیدا کرنے والے میلویئر اور تاوان کے لیے آن لائن حملوں کا دور دورا ہے۔ دوسری طرف کرپٹو کرنسیوں میں اضافے سے آن لائن مجرموں کے لیے لین دین چھپانا آسان ہوتا جارہا ہے۔سروے میں رائے دینے والوں نے سائبر سیکیورٹی کے خطرات کو مختصر اور درمیانی مدت کے خطرے کے طور پر شمار کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button