امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا میں آبدوزوں کا منصوبہ کیا ہے؟
ایک معاہدے کے تحت آسٹریلیا کو جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں فراہم کی جائیں گی
لندن،14مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) آکس اتحاد کے ایک معاہدے کے تحت آسٹریلیا کو جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں فراہم کی جائیں گی تاکہ ہند بحرالکاہل میں چین کے عزائم کا مقابلہ کیا جا سکے۔ بیجنگ اس طرح کے اقدام سے پہلے ہی کافی ناراض ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے 13 مارچ پیر کے روز سان ڈیاگو میں آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البینی اور برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک کی میزبانی کی تاکہ جوہری طاقت سے لیس آبدوزوں کی فراہمی کے منصوبے کی تفصیلات کا اعلان کیا جا سکے۔یہ اعلان انڈوپیسفک خطے میں چین کے عزائم کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے تناظر میں ہوا ہے، جس پر بیجنگ نے پہلے ہی کافی ناراضی ظاہر کی تھی۔
امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا پر مبنی آکس اتحاد نے پیر کے روز جس مشترکہ منصوبے کا اعلان کیا ہے، وہ سیکورٹی اتحاد کے اسی پہلے منصوبے کی نمائندگی کرتا ہے جس کا سب سے پہلے سن 2021 میں اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے تحت آسٹریلیا کو تین امریکی ورجینیا کلاس کی جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں فراہم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔اس ملٹی اسٹیج پروجیکٹ کے تحت برطانیہ اور آسٹریلیا مشترکہ طور پر پہلے نئی آبدوزیں تیار کریں گے اور پھر ایک ساتھ آپریٹ بھی کریں گے۔ یہ ایک طرح سے سہ فریقی طور پر تیار کی جانے والی آبدوزیں ہوں گی، جو برطانیہ کی جدید جنریشن کے ڈیزائن پر مبنی ہوں گی اور انہیں برطانیہ اور آسٹریلیا میں تیار کیا جائے گا۔ تاہم اس کا اہم عنصر اس میں امریکہ کی جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہے۔صدر جو بائیڈن نے اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد کے آزاد اور کھلے انڈو پیسیفک کے لیے مشترکہ عزم کا ایک حصہ ہے۔برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک کا کہنا تھا کہ یہ شراکت داری اس نوعیت کی ہو گی کہ برطانیہ کی رائل نیوی آسٹریلوی بحریہ کی آبدوزیں آپریٹ کرے گی، جو امریکی بحریہ کے پرزوں اور ٹیکنالوجی سے لیس ہو گی۔
چین کا کہنا ہے کہ آکس اتحاد کا یہ معاہدہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بیجنگ کا استدلال ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک کی جانب سے غیر جوہری ہتھیاروں والی ریاستوں کو ایٹمی ہتھیاروں کے مواد کی منتقلی معاہدے کی روح کی واضح خلاف ورزی ہے۔فی الحال جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی میں امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس ہی شامل ہیں، جنہیں جوہری ہتھیاروں کی ریاستوں کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
ان ممالک کے علاوہ کسی کے بھی پاس جوہری آبدوزیں نہیں ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے بیجنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ ہم امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا پر زور دیتے ہیں کہ وہ سرد جنگ کی ذہنیت اور کسی کے بھی مفاد میں نہ ہونے والے کو کھیل کو بند کر دیں۔ انہیں نیک نیتی کے ساتھ بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرنا چاہیے اور وہ مزید وہ چیزیں کریں جو علاقائی امن اور استحکام کے لیے سازگار ثابت ہوں۔واشنگٹن نے 1950 کی دہائی میں برطانیہ کے ساتھ پہلی بار جوہری توانائی سے چلنے والی ٹیکنالوجی کا اشتراک کیا تھا، جس کے بعد اب یہ پہلا موقع ہے کہ اس نے آسٹریلیا کے ساتھ ایسا کرنے کا اعلان کیا ہے۔آسٹریلیا کے وزیر اعظم البینی نے کہا کہ یہ معاہدہ ہماری پوری تاریخ میں آسٹریلیا کی دفاعی صلاحیت کے لیے سب سے بڑی واحد سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتا ہے۔



