متضاد ماضی، غیریقینی مستقبل: قرآن مجید کی بے حرمتی کرنے والے کا مقصد کیا تھا؟
سویڈن میں عیدالاضحی کے موقع پر ایک مسجد کے باہر عراقی مہاجر سلوان مومیکا کی جانب سے قرآن جلانے کے بعد جہاں معاملہ شہ سرخیوں میں آیا
دبئی، 7جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سویڈن میں عیدالاضحی کے موقع پر ایک مسجد کے باہر عراقی مہاجر سلوان مومیکا کی جانب سے قرآن جلانے کے بعد جہاں معاملہ شہ سرخیوں میں آیا وہیں سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوا۔ رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک اور ٹوئٹر پر سامنے آنے والے ردعمل میں صرف مسلمانوں ہی نہیں غیرمسلموں نے بھی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کے پاس اپنے جذبات کے اظہار کے لیے اور بھی راستے تھے اور مذہبی علامتوں کا تقدس برقرار رکھا جانا چاہیے۔واقعے کے بعد ہونے والی قیاس آرائیوں کے مطابق مومیکا کا اقدام جہاں سویڈن کے لیے سفارتی محاذ پر مشکلات کا باعث بنا وہیں ان کو سوشل میڈیا پر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی موصول ہوئی ہیں۔بعدازاں معلوم ہوا کہ مومیکا کی جانب سے حکام سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ان کے مہاجر کے سٹیٹس کو بڑھایا اور انہیں شہریت دی جائے۔اب جبکہ یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ جان سے مارنے کی دھمکیاں حقیقت پر مبنی ہیں۔ مومیکا کے ماضی، نظریات اور محرکات کے حوالے سے معلومات حاصل کی گئی ہیں۔
28 جون کو مومیکا نیا اسٹاک ہوم میں مسجد کے سامنے اس وقت قرآن کے صفحات پھاڑے اور جلائے جب اس وقت وہاں پولیس بھی موجود تھی اور ان کے دوست نے ان مناظر کو فلمایا گیا۔اس موقع پر مومیکا نے چیختے ہوئے کہا کہ ’میں اس کتاب سے سویڈن کی حفاظت کا خواہاں ہوں جو کہ ملک کے لیے خطرہ ہے۔تاہم کچھ ہی عرصہ پیشتر یہی خودساختہ ’لبرل‘ عراق کے ایک بدنام زمانہ انتہاپسند مذہبی گروپ ’امام علی بریگیڈ‘ جو عراق اسلامک موومنٹ کا مسلح ونگ ہے، سے وفاداری کا عہد کر رہا تھا۔انہوں نے داعش کے خلاف جنگ کے حوالے سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم عزت کے ساتھ زندہ رہتے یا حوصلے کے ساتھ مرتے ہیں۔
میں کتائب روح اللہ عیسٰی ابن مریم کا ایک افسر ہوں جو کہ امام علی بریگیڈز کے ساتھ منسلک ہے۔بنیادی طور پر ان کا تعلق شمالی عراق کے علاقے قراقوش سے ہے۔ وہ سیریئک ڈیموکریٹک یونین پارٹی اور ہاک سیریئک فورسز کے بانی بھی ہیں، جو 2014 میں بننے والی مسلح ملیشیا ہے جو مسیحی تنظیم ببائلون بریگیڈز سے وابستہ تھی۔اور اب مومیکا کا دعویٰ ہے کہ مسلمان اپنے ملکوں سے شریعت کی حکمرانی کے باعث ہجرت کر رہے ہیں۔’وہ اپنے ملکوں سے یہاں آ کر شرعی قانون کا نفاذ کرنا چاہتے ہیں۔
وہ یہاں تحفظ، امن، عزت، جمہوریت کے لیے آتے ہیں اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ وہ اپنا شرعی قانون یہاں لاگو کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ مظلوم ہیں۔اسی طرح ایک اور موقع پر مومیکا نے اعلان کیا کہ وہ عراق کے شیعہ مذہبی و سیاسی رہنما مقتدا ال صدر پر مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ،کیونکہ وہ لوگوں کو ان کے قتل پر اکسا رہے ہیں۔دو دسمبر 2021 کو ان کے اکاؤنٹ سے ہونے والی ٹویٹ (جس کو اب ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے) بتاتی ہے کہ وہ عراقی صدرسٹ موومنٹ کے حامی اور مداح رہے ہیں۔
عراق کے متعدد ماہرین سے رابطہ کیا جنہوں نے تصدیق کی کہ مومیکا ماضی میں گروپ سے وابستہ رہے ہیں۔ان کے ماضی اور تضادات کی روشنی میں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ انہوں نے عوامی سطح پر قرآن کو کیوں جلایا۔مذہبی و سیاسی ایکسپرٹ ڈاکٹر ہانی ناصرہ کا کہنا ہے کہ مومیکا ایسے ماحول سے آئے جو مسیحیت سے بہت متاثر تھا اور مشترکہ دشمن داعش سے مقابلے کے لیے ملیشیا میں شامل ہوئے تھے۔ ان کے مطابق ’جب وہ مسیحیت پر قائم رہے انہوں نے اپنی اہمیت دکھانے کے لیے بہت کام کیا اور ایک موقع پرست کے طور پر سامنے آئے۔



