
کابل ،28 دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغانستان میں 2021 کے اختتام کے ساتھ ساتھ سردی کی شدت، حالات کی سنگینی اور مستقبل سے متعلق بے یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔رواں برس اگست میں جب طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو گزشتہ چار دہائیوں سے جنگ زدہ اس ملک کے لیے بے یقینی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
طالبان نے جس تیزی سے کابل کا کنٹرول حاصل کیا تھا اس سے افغانستان کے لوگ اور دنیا دونوں ہی حیرت زدہ تھے اور بظاہر اس اچانک تبدیلی نے مستقبل سے متعلق کئی سوالات پیدا کر دیے تھے۔افغانستان سے متعلق خدشات اور سوالات صرف افغان شہریوں کے لیے بے چینی کا باعث نہیں۔
حکمران بننے والے طالبان اور پوری دنیا افغانستان کے حالات اور ان سے جڑے خدشات سے دو چار ہیں۔طالبان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ انہیں ایک جنگجو گروہ سے ایک پیچیدہ اور متنوع قوم پر حکمرانی کے لیے خود کو تبدیل کرنا ہے۔مغربی ممالک بالخصوص امریکہ اور اس کے اتحادی نیٹو ممالک کو دہرے خطرات کا سامنا ہے۔
اول یہ کہ اگر افغانستان کے حالات مزید ابتر ہوتے ہیں تو مزید ہزاروں افغان شہری بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہوں گے۔افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے دوسرا خطرہ یہ ہے کہ حالات کی بے یقینی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر القاعدہ اور دیگر شدت پسند عناصر افغانستان میں اپنے قدم جما سکتے ہیں۔
عام افغان شہری کے لیے ابھی اور آنے والے سال میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اسے خوراک، سر پر سائبان اور روزگار کہاں سے ملے گا؟ کیوں کہ یہی عام افغان شہریوں کی اولین ترجیح ہے۔افغان خواتین پر طالبان کی پالیسیوں کے اثرات سب سے واضح ہیں۔
طالبان نے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں خواتین کی وزارت کو مذہبی قوانین کے نفاذ کے لیے تشکیل دی گئی وزارت ’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ میں تبدیل کر دیا تھا۔اس وزارت کا تازہ ترین اقدام یہ ہے کہ اس نے خواتین پر لمبی مسافت کے سفر پر جانے کے لیے محرم کے ساتھ جانے کی شرط عائد کر دی ہے۔
افغانستان اینالسٹس نیٹ ورک (اے اے این) کے لیے اپنی حالیہ خصوصی رپورٹ میں محقق کیٹ کلارک نے لکھا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے اثرات و نتائج تباہ کن اور تیز رفتار ہیں۔خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق کیٹ کلارک کا کہنا ہے کہ طالبان کے پاس حکومت کو امداد کے بغیر چلانے کی کوئی تیاری اور منصوبہ بندی نہیں۔
ان کے مطابق طالبان نے پوری طاقت جنگی محاذ پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے صرف کی جس کے لازمی نتائج وہی تھے جو افغانستان کی ابتر ہوتی صورتِ حال کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔



