بین الاقوامی خبریں

جنگ کے بعد غزہ کا مستقبل کیا ہوگا؟ امریکہ اسرائیل میں اختلافِ رائے

بلنکن نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ شہری ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے

لندن،8دسمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) غزہ میں جاری اسرائیل حماس لڑائی کے دوران امریکہ نے اگرچہ اپنے اتحادی کو مسلسل حمایت فراہم کی ہے لیکن، ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنازعے کے بعد غزہ کے مستقبل کیبارے میں دونوں اتحادیوں میں اختلافات برقرار ہیں۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس ہفتے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں اپنی سیکیورٹی فورسز کی موجودگی برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل کرے گا۔ جب کہ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سرحد سے فلسطینیوں کو دور رکھنے کے لیے ایک بفر زون قائم کیا جائے گا۔ اسرائیلی حکام نے غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کے دوبارہ احیاء کے امکان کو رد کیا ہے۔

محمود عباس کی سربراہی میں فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔ جب کہ 2007 میں حماس کے ہاتھوں ایک الیکشن میں شکست کے بعد غزہ کا انتظام فلسطینی اتھارٹی کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔دوسری جانب امریکہ اس بارے میں مختلف نظریہ رکھتا ہے۔اعلیٰ امریکی حکام نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ اسرائیل غزہ پر دوبارہ قبضہ کرے، یا پہلے سے ہی چھوٹی سی پٹی کا رقبہ مزید کم کرے۔ امریکی حکام نے غزہ میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ فلسطینی اتھارٹی کی واپسی پر زور دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے امن مذاکرات شروع کرنے پر بھی زور دیا ہے۔اے پی کے مطابق حلیفوں کی جانب سے مختلف نظریات کے اظہار کی وجہ سے اسرائیل اور امریکہ کے درمیان اس حوالے سے بات چیت مشکل نہج پر پہنچ گئی ہے۔

سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد جہاں امریکہ نے اسرائیلی آپریشن کی، جس میں اب تک سولہ ہزار سے زائد فلسطینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں،مسلسل حمایت کی ہے، لیکن اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکت پر اپنے خدشات کا بھی اظہار کیا ہے۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ حماس شہریوں کو بطور ڈھال استعمال کرتا ہے۔امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات اٹھائے۔انہوں نے کہا تھا کہ اگر آپ انہیں دشمن کے ہاتھوں میں دھکیل دیتے ہیں، تو آپ تدبیر سے حاصل جیت کو حکمت عملی کی ہار میں بدل دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس لیے میں نے اسرائیل کے لیڈروں پر بارہا واضح کیا ہے کہ غزہ میں شہریوں کی حفاظت نہ صرف ایک اخلاقی ذمہ داری ہے، بلکہ یہ جنگی نقطہ نظر سے بھی اہم ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ انٹنی بلنکن نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ شہری ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، اور یہ کہ اسرائیل کو انہیں محدود کرنے کے لیے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ بلنکن نے اسرائیل پر غزہ میں انسانی ہمدردی کی امداد میں اضافے پر بھی زور دیا۔اسرائیل اور امریکہ کے درمیان، غزہ کے لیے طویل مستقبل کے بارے میں پالیسی اختلافات ہیں۔نیتن یاہو جہاں غزہ میں اسرائیلی فورسز کی موجودگی برقرار رکھنا چاہتے ہیں،وہیں انہوں نے بیرونی ممالک کے امن دستوں کے امکان کو بھی رد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ کو غیر مسلح رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے بھی غزہ میں دوبارہ آنے کے امکان کو رد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محمود عباس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

نیتن یاہو کے مشیر اوفر فاک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ، ’’حماس کو ختم کرنے کے بعد، غزہ کو غیر مسلح اور انتہاپسندی سے پاک کیا جائے گا تاکہ وہاں سے اسرائیل کو کوئی خطرہ نہ رہے۔ان کا کہنا تھا کہ غیر مسلح کرنے کے پروگرام کا ایک حصہ بفر زون بھی ہوگا۔اسرائیل نے مغربی اتحادیوں اور ہمسایوں کو بفر زون کے منصوبے سے متعلق گزشتہ ہفتے ہی آگاہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ اے پی کے مطابق اس بارے میں اسے مصری، عرب اور مغربی سفارت کاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی صورت میں آگاہ کیا ہے۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جن ممالک کو اس منصوبے کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے ان میں مصر، قطر، اردن، ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی شامل ہیں۔ ایک مصری افسر کا کہنا ہے کہ اس بارے میں اسرائیل کے پاس کوئی قابلِ بھروسہ منصوبہ نہیں ہے، جس میں اس بفر زون کی چوڑائی بھی شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button