بین الاقوامی خبریں

جب 21 فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ کے لیے اپنی جانیں دے دیں

مقبوضہ بیت المقدس ، ۹؍اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یہ 8 اکتوبر 1990کی ایک عام سی صبح تھی، مگر اہلیان بیت المقدس کے لیے یہ صبح ایک بڑی آزمائش لے کرآ رہی تھی۔ اس روز سیاہ کے دوران قابض صہیونی فوج نے منظم ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 21 نہتے اور معصوم فلسطینیوں کو بے دردی کے ساتھ موت کی نیند سلا دیا تھا۔ القدس کے فلسطینی باشندوں کے قبلہ اول کے دفاع کے لیے قتل عام کے آج 31 سال ہوچکے ہیں۔

بیت المقدس کے شہری صبح بیدار ہوئے ہی تھے کہ قابض دشمن کی طرف سے مشین گنوں، کلاشنکوفوں سے فائرنگ اور مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں سے خود کو بچانے کے اعلانات ایک ساتھ سنائی دے رہے تھے۔ مساجد سے ہونیوالے اعلانات میں فلسطینیوں سے اپیل کی جا رہی تھی کہ وہ دفاع قبلہ اول کے لیے نکلیں اور قابض دشمن کی فوج کا مقابلہ کریں۔

اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے سیکڑوں فلسطینی اپنے گھروں سے نکل آئے اور انہوں نے قبلہ اول کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے دینا شروع کردیئے۔ اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملوں اور یہودی دہشت گردوں کی کارروائیوں میں سیکڑوں فلسطینی شہری زخمی ہوگئے تھے۔

فلسطینیوں نے یہودی انتہا پسندوں کو قبلہ اول میں جانے اور ہیکل سلیمانی کے پرچارک گروپوں کو آگے جانے سے روک دیا۔ القدس میں خون کی ندیاں بہہ گئیں مگر غاصب دشمن کو قبلہ اول کو پامال کرنے کا موقع نہ ملا۔

آج دفاع اقصیٰ کے لیے جانیں دینے والے فلسطینیوں کی شہادت کی ایک ایسے وقت میں آئی ہے ،جب قابض دشمن اور انتہا پسند یہودیوں کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر مسجد اقصیٰ کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے۔آٹھ اکتوبر بہ روز سوموار 1990ء کو نماز ظہر سے قبل القدس کی سڑکیں فلسطینیوں کے خون سے رنگین ہوچکی تھیں۔ یہ قتل عام دراصل فلسطینیوں کی طرف سے قبلہ اول کے دفاع کرنے والوں کا کیا تھا۔ یہودی انتہا پسند اس روز مزعومہ ہیکل سلیمانی کا سنگ بنیاد رکھنا چاہتے تھے۔

انہوں نے مسجد اقصیٰ کے قریب پہنچ کر فلسطینیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی اور مسجد میں اعتکاف کرنے والے درجنوں فلسطینیوں کو زخمی کردیا۔قابض فوج اور یہودی آباد کاروں کی طرف سے مسجد اقصیٰ میں 35 منٹ تک فائرنگ کی جاتی رہی تاہم اس دوران فائرنگ کے باوجود فلسطینی مسجد اقصیٰ پہنچتے اور جانوں کا نذرانہ دیتے رہے۔قابض فوج کی اس ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 21 فلسطینی شہید 200 زخمی جب کہ 270 کو گرفتار کرلیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button