بین الاقوامی خبریں

قزاقستان میں مظاہرے کیوں ہورہے ہیں ؟

لندن، 7جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)قازقستان کے سب سے بڑے شہر الماتی سے موصول ہونے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری سکیورٹی فورسز نے، جنھیں روس کی حمایت یافتہ فوجیوں کی مدد حاصل ہے، مظاہرین پر گولیاں چلائی ہیں، جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے ہیں، ایسے میں جب اس سابق سوویت جمہوریہ میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔الماتی کی سڑکوں پر بنائی گئی ایک ویڈیو رپورٹ میں شہر کے ‘ریپبلکن اسکوائر’ پر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فائر کھولتے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں کچھ بکتربند گاڑیاں نمایاں ہیں۔

مظاہرین کے گروہ کے ایک نمائندے نے ریڈیو فری یورپ،ریڈیو لبرٹی کو بتایا کہ اسکوائر پر موجود افراد میں سے زیادہ تر غیر مسلح تھے۔ قازق پولیس کی اطلاع کے مطابق احتجاج کرنے والے درجنوں افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور گزشتہ روز 2000سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ پولیس کے متعدد اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں، جن میں سے ایک پولیس اہلکار کا سر دھڑ سے الگ کیا گیا تھا۔

ابتدائی طور پر قازقستان میں گاڑیوں کے ایندھن کی قیمت میں اچانک اضافے کے باعث ملک کے دور دراز مغربی حصے میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ لیکن بعد ازاں یہ احتجاج درجن سے زائد شہروں میں پھیل گیا۔اے پی کے مطابق مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں نے قازقستان میں قائم مطلق العنان حکومت کے خلاف احتجاج کی شکل اختیار کر لی ہے۔

ملک کے صدر قاسم جومارت توکایوف نے بدھ کے روز مظاہرین کو مطمئن کرنے کے لیے پہلے تو پوری حکومت برطرف کر دی، لیکن دن کے اختتام تک انہوں احتجاج کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دینا شروع کر دیا۔بعد ازاں صدر قاسم نے حتجاجی لہر پر قابو پانے کے لیے روس کی زیرِ قیادت دفاعی اتحاد ’کولیکٹیو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن‘ (سی ایس ٹی او) سے مدد کی اپیل کی۔

سی ایس ٹی او نے صدر قاسم کی اپیل پر قیامِ امن کے لیے اپنے اہل کار قازقستان بھیجنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔قازقستان وسطی ایشیا کی ان پانچ ریاستوں میں شامل ہے جنہوں نے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد 1991 میں آزادی حاصل کی تھی۔ قازقستان ان ریاستوں میں سب سے بڑی اور امیر ترین ریاست شمار ہوتی ہے۔اس کا کل رقبہ مغربی یورپ کے برابر ہے اور یہ تیل، قدرتی گیس، یورینیم اور دیگر قیمتی دھاتوں کے ذخائر سے مالا مال ہے۔

قدرتی وسائل کی وجہ سے قازقستان میں معاشی اعتبار سے مستحکم متوسط طبقہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دولت مند طبقہ بھی پایا جاتا ہے۔ البتہ کثیر قدرتی وسائل کے باوجود ملک کی معاشی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سروس معطل کر دی گئی ہے جس کے بعد احتجاج، مظاہروں اور حکومت کے اقدامات کے حوالے سے مکمل تفصیلات سامنے نہیں آرہیں۔

قازقستان میں اوسط ماہانہ تنخواہ چھ سو امریکی ڈالر ہے۔ غیر منافع بخش قرضوں کے باعث بینکاری کا نظام شدید بحران کا شکار ہے۔ خطے کے دیگر ممالک کی طرح کرپشن کا پھیلاؤ یہاں بھی ایک مسئلہ ہے۔تیل پیدا کرنے والے مغربی علاقے ژاناؤزن میں شروع ہونے والی ایک ریلی حالیہ احتجاجی لہر کا نقطہ آغاز ثابت ہوئی ہے۔ اس علاقے میں توانائی کے قدرتی وسائل کی آمدنی کی غیر منصفانہ تقسیم پر پہلے ہی بے چینی پائی جاتی تھی۔

اس سے قبل ژاناؤزن میں 2011 میں تیل کی تنصیبات میں کام کرنے والے مزدوروں کو ہڑتال کرنے پر برطرف کر دیا گیا تھا۔ اس اقدام کے خلاف احتجاجی مظاہرے پر پولیس کی فائرنگ سے 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔رواں ہفتے اس علاقہ میں زیادہ تر گاڑیوں کے ایندھن کے لیے استعمال ہونے والے لکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتیں دو گنا کر دی گئی تھیں۔

نئی قیمتوں کے اعلان کے بعد قریبی شہروں میں بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہو گئے اور اس احتجاج نے رفتہ رفتہ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔حکومت پر تنقید کرنے والی آوازوں کو دبانے پر قازقستان کی حکومت تنقید کی زد میں رہتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button