بین الاقوامی خبریں

سر حدی جھڑپ، افغانستان اور ایران میں کشیدگی اچانک کیوں بڑھ گئی؟

ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے، طالبان کی ایران کو دھمکی

 لندن،29مئی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)افغانستان اور ایران کے درمیان کشیدگی گزشتہ ہفتے کے آخر میں اس حد تک بڑھ گئی کہ ایک سرحدی چوکی کے قریب فائرنگ کے شدید تبادلے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔عرب نیوز کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ اس جھڑپ کی جڑیں دونوں پڑوسی ملکوں کے مشترکہ آبی وسائل پر حقوق کے تنازعے میں ہیں۔اتوار کو میڈیا رپورٹس سے ایسے اشارے ملے کہ ایرانی اور افغان سرحدی سیکورٹی فورسز کے درمیان لڑائی میں کمی آ گئی ہے اور دونوں فریق کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بات چیت میں مصروف ہو گئے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے کے ممالک، خاص طور پر افغانستان کسی تنازعے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس قسم کی جھڑپوں کا آغاز بندوق کی نال سے ہوتا ہے جیسا ایران میں واقع ساسولی سرحدی چوکی پر گزشتہ ہفتے دیکھا گیا لیکن اس جنگ کا اختتام پھر علاقائی طاقتوں کی جانب سے کسی ایک فریق کا ساتھ دینے پر ہوتا ہے۔

یہ سرحدی جھڑپ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے اُس بیان کے چند ہفتوں کے بعد ہوئی جس میں انہوں نے طالبان کو خبردار کیا تھا کہ وہ مشترکہ دریائے ہلمند پر ایران کے پانی کے حقوق کی خلاف ورزی نہ کریں، جیسا کہ 1973 میں طے پانے والے دو طرفہ معاہدے میں طے پایا تھا۔دریائے ہلمند ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ طویل ہے اور افغانستان سے ایران کے بنجر مشرقی علاقوں میں بہتا ہے، کابل کی جانب سے بجلی پیدا کرنے اور زرعی زمین کو سیراب کرنے کے لیے ڈیم بنانے کے فیصلے کی وجہ سے تہران کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ایران کو حالیہ برسوں میں پانی کی کمی کے بڑھتے ہوئے مسائل کا سامنا ہے۔ اس صورت حال نے 2021 میں کسانوں کے احتجاج کو جنم دیا تھا۔ایران کے محکمہ موسمیات نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق 97 فیصد ملک کو کسی نہ کسی سطح پر خشک سالی کا سامنا تھا۔ہلمند کے پانی کی تقسیم کے معاملے پر 18 مئی کو افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی اور ان کے ایرانی ہم منصب حسین امیرعبداللہیان کے درمیان بات چیت ہوئی تھی۔

سنیچر کو ایک بار پھر امیر خان متقی نے کابل میں ایرانی سفیر حسن کاظمی قم سے ملاقات کی جس میں پانی کے مسائل سمیت دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔افغان وزارت خارجہ کے نائب ترجمان نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان مسائل کو باہمی بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے بہتر طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔امیر خان متقی نے ہفتے کے اوائل میں کہا تھا کہ طالبان 1973 کے معاہدے پر قائم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’افغانستان اور خطے میں طویل خشک سالی کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

‘افغانستان کو بھی مسلسل تیسرے سال خشک سالی کا سامنا ہے۔ ملک کو بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ 2023 کی ہنگامی واچ لسٹ میں تیسرے نمبر پر رکھا گیا تھا۔رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی تھی کہ کس طرح موسمیاتی تبدیلی افغانستان میں بحران کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔سیستان اور بلوچستان کے رہائشیوں کو مخاطب کرتے ہوئے امیر خان متقی نے کہا تھا کہ افغانستان آپ کے دکھ درد میں برابر کا شریک ہے۔ گزشتہ ہفتے جاری کیے ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ میں ایران کی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ پانی کے اس اہم مسئلے پر سیاست نہ کرے۔ ہمارے لیے بہتر ہے کہ میڈیا میں ریمارکس دینے کے بجائے افہام و تفہیم اور براہ راست بات چیت کے ذریعے اس مسائل کو حل کیا جائے۔

ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے، طالبان کی ایران کو دھمکی

سرحدی جھڑپوں کے بعد طالبان نے ایران کو سخت الفاظ میں وارننگ دی ہے۔ طالبان تحریک کے ایک رہ نما نے افغان۔ ایران سرحد پر ہونے والی جھڑپ اور اس میں ہلاکتوں کے بعد کہا کہ اگر امارت اسلامیہ کے شیوخ امارت اسلامیہ کے مجاہدین کو اجازت دیں ،تو امارت اسلامیہ کے مجاہدین 24 گھنٹوں کے اندر اندر ان شاء اللہ ایران پر قبضہ کر نے کی جسارت رکھتے ہیں۔ ایران ہمارے صبر کا امتحان نہ لے۔طالبان کمانڈر کا یہ دھمکی آمیز بیان سرحدی جھڑپوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں 3 ایرانی سرحدی محافظ ہلاک اور دو شہری زخمی ہوئے تھے۔قبل ازیں ایرانی سرحدی محافظوں اور طالبان کے درمیان زابل کے سرحدی علاقے میں ساسولی کے مقام پر جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں ہر قسم کے ہتھیاروں کے ساتھ گولہ باری کا تبادلہ کیا گیا۔

اس کے کئی گھنٹوں کے بعد متضاد اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ جھڑپیں دریائے ہلمند کے پانی کے انتظام پر اختلاف کی وجہ سے ہوئی تھیں۔ کابل میں دونوں اطراف نے ہفتہ کے روز کابل میں تناؤ کم کرنے کے لیے دریا کے پانی کے انتظام پر مشاورت کی ہے۔ایرانی میڈیا نے فریقین کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی تصدیق کی۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ چینلز نے ایسے ویڈیو کلپس نشر کیے جن میں افغانستان اور ایران کے درمیان سرحدی علاقے میں فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

طالبان کی وزارت داخلہ کے ترجمان عبد النافع تاکور نے ایک بیان میں کہا کہ آج ایرانی بارڈر فورسز نے صوبہ نمروز میں افغانستان کی طرف فائرنگ کی جس کا جوابی ردعمل سامنے آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لڑائی کے دوران ہر طرف ایک ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ حالات اب قابو میں ہیں۔ ہم اپنے پڑوسیوں سے لڑنا نہیں چاہتے۔

افغان طلوع ٹی وی نے طالبان حکومت کے حوالے سے ایران کے حوالے سے کہا کہ جنگ چھیڑنے کے لیے بہانے گھڑنا کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور مذاکرات ہی مسائل کے حل کا بہترین طریقہ ہے۔ٹیلی گرام پر پاسداران انقلاب چینل نے اشارہ کیا کہ متعدد ایرانی سرحدی محافظ مارے گئے ہیں۔انگریزی زبان کے اخبار تہران ٹائمز نے شائع کیا تھا کہ تصادم کے دوران تین ایرانی فوجی مارے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button