ریاض 12فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے خلاف برسرِ پیکار ایران نواز حوثی باغیوں نے جمعرات کے دن ایک بار پھر سعودی عرب کے ابہا ایئر پورٹ کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا البتہ ایئرپورٹ عملے سمیت 12 افراد زخمی ہو گئے تھے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب حوثی باغیوں نے اس ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا ہو۔ 2019 سے اب تک حوثی باغیوں کی جانب سے لگ بھگ ایک درجن بار ابہا ایئرپورٹ کو کبھی میزائلوں اور کبھی ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایئر ڈیفنس نے جمعرات کو ابہا ایئرپورٹ کی طرف بڑھنے والے میزائل کو ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی فضا میں ناکارہ بنا دیا تھا، لیکن زمین پر گرنے والے اس کے کچھ ٹکڑوں سے ایئرپورٹ کو نقصان پہنچا اور مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے مسافروں سمیت 12 افراد زخمی ہوئے۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حفاظتی اقدامات کے بعد ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔ابہا ایئرپورٹ پر حملے کے بعد سعودی اتحاد نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں شہریوں کو وارننگ دی کہ وہ آئندہ 72 گھنٹوں کے دوران ایسے عوامی مقامات پر جانے سے گریز کریں جسے حوثی باغی فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
؎عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق حوثی باغیوں کے ترجمان یحیی ساری نے ڈرون حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ابہا ایئرپورٹ پر فوجی اہداف کو ‘قصف 2’ نامی ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔
الجزیرہ کے مطابق زخمی ہونے والے افراد میں دو سعودی شہریوں کے علاوہ نیپال، سری لنکا، بنگلہ دیش اور بھارت سے تعلق رکھنے والے شہری بھی شامل ہیں۔سعودی عرب کے جنوبی صوبے عسیر کے شہر ابہا کا یہ ہوائی اڈہ یمن کی سرحد کے قریب ہونے کے باعث یمن تنازع میں بار بار خبروں میں آتا رہا ہے۔
حوثی باغیوں یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ ابہا ایئرپورٹ سے سعودی اتحاد کے جنگی طیارے یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہیں جس سے سول آبادی کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
جمعرات کو بھی حوثی باغیوں کے ترجمان یحییٰ ساری نے یہ الزام دہراتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایئرپورٹ یمن کے خلاف استعمال ہوتا ہے، لہٰذا اسے نشانہ بنایا گیا۔ابہا سعودی عرب کے جنوبی صوبے عسیر کا اہم شہر ہے جو سعودی دارالحکومت ریاض سے 900 کلومیٹر کی دْوری پر یمن سرحد کے قریب ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ ایئرپورٹ 2015 کے بعد سے کئی بار یمن کے حوثی باغی اسے نشانہ بنا چکے ہیں۔
سن 2015 سے ہی یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں اور سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں حالیہ عرصے میں مزید تیزی ا?ئی ہے۔الجزیرہ ‘کے مطابق حوثی باغیوں نے جون 2019 میں دو مرتبہ ( 12 اور 23 جون) کو ابہا ایئرپورٹ پر میزائل داغے جن میں ایک شامی شہری ہلاک جب کہ درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے۔
اسی طرح 2020 اور 2021 میں ابہا ایئرپورٹ پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے جواب میں سعودی اتحاد کی جانب سے یمن کے اندر حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری بھی کی جاتی رہی۔
ابہا ایئرپورٹ سے خطے کے مختلف ممالک بشمول قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں آپریٹ کی جاتی ہیں۔خیال رہے کہ یمن میں 2015 سے ہی خانہ جنگ جاری ہے۔
2014 کے آخر میں ایران نواز حوثی باغیوں نے عالمی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا تختہ الٹ کر دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں کنٹرول سنبھال لیا تھا۔سن 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں اس کے علاقائی اتحادیوں نے یمن میں فوجی کارروائی کا آغاز کر دیا تھا۔
عالمی اداروں کے مطابق اب تک اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں عام شہری بھی شامل ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں فریقین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بھی الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔
اقوامِ متحدہ سمیت کئی عالمی ادارے یمن میں جاری جنگ کے باعث انسانی المیے کے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔



